کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 61
میں وقفا قراء کرام کے لیے دو وجوہ ہیں: پہلی وجہ:… ھاء کے ساتھ وقف، جس طرح مرسوم بالھاء اصل کلمات میں وقف بالھاء پر تمام قراء کا اتفاق ہے… یہاں کے تاء کو ھاء سے بدل دیں گے۔ دوسری وجہ:… تاء کے ساتھ وقف، کیونکہ مصحف میں تاء لکھی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بعض کلمات کے رسم میں فرق کیا ہے۔ بعض کلمات کو تاء کے ساتھ لکھا ہے، تاکہ اس سے دونوں قراء ات نکل سکیں۔ اس کے برعکس مرسوم بالھاء کلمات میں صرف ایک ہی وجہ ہے۔[1] (د) قطع و وصل: علم الرسم کے اہم ترین ابواب میں سے ایک ((باب القطع والوصل)) ہے۔ اس کو مقطوع اور موصول بھی کہتے ہیں۔ اہل علم نے ہر قاری پر اس کی معرفت کو واجب قرار دیا ہے، تاکہ ہر کلمہ پر مصاحف عثمانیہ میں مرسوم اس کے رسم کے مطابق وقف کر سکے۔ جب کلمہ اپنے غیر سے مفصول ہو تو قاری کے لیے عند الضرورہ اس کے کسی ایک جزء پر وقف کرنا جائز ہے۔ جیسے بچوں کو تعلیم دیتے وقت، امتحان لیتے وقت یا سانس ختم ہو جاتے وقت وقف کر لینا۔ اور اگر وہ اپنے مابعد کے ساتھ موصول ہو تو صرف اس کے دوسرے جزء پر وقف کرنا جائز ہے۔[2] اس کی مثالوں میں ایک ﴿أم﴾ کا ﴿من﴾ کے ساتھ موصول و مقطوع ہونا ہے۔ یہ دونوں کلمات چار جگہ پر باہم مفصول مرسوم ہیں۔ پہلی جگہ:… ﴿ أَمْ مَنْ يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا ﴾ (النساء:۱۰۹) دوسری جگہ:… ﴿ أَمْ مَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى شَفَا ﴾ (التوبہ:۱۰۹) [1] النشر:۲/۱۲۸. [2] النشر: ۲/۱۴۸ ومابعدھا.