کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 39
﴿ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ﴾ (البقرۃ:۲۱۹) اس آیت مبارکہ میں لفظ ﴿ كَبِيرٌ ﴾باء اور ثاء دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور یہ دونوں ہی قراء ات صحیحہ ہیں۔ اگر یہ لفظ نقاط و حرکات سے خالی ہو تو اس کا رسم تحقیقاً دونوں قراء ات کا ہی احتمال رکھتا ہے۔ ۲۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا ﴾ (الحجرات:۶) اس آیت مبارکہ میں لفظ﴿ فَتَبَيَّنُوا ﴾ البیان سے باء،یاء نون کے ساتھ اور التثبت سے ثاء، باء، تاء کے ساتھ دونوں طرح پڑھا گیا ہے، اور یہ دونوں ہی قراء ات صحیحہ ہیں، اگر یہ لفظ نقاط و حرکات سے خالی ہو تو اس کا رسم تحقیقاً دونوں قراء ات کا ہی احتمال رکھتا ہے۔[1] ٭نوع ثانی کی مثالیں: یعنی تقدیراً قراءت کا رسم کے موافق ہونا۔ ۱۔ جمع مؤنث سالم جیسے: ﴿ مُسْلِمَاتٍ ﴾، ﴿ مُؤْمِنَاتٍ ﴾،﴿ اَلْبَيِّنَاتِ ﴾، تمام اہل علم کے نزدیک یہ الفات بالاتفاق حذف کر دئیے جاتے ہیں۔ اگر کسی کلمہ میں دو الف ہوں جیسے ((الصالحات، السموات)) تو اس میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر مصاحف میں دونوں الف حذف ہیں۔ اور بعض مصاحف میں صرف ایک الف حذف ہے۔[2] ۲۔ ألف کی کتابت واؤ کی صورت میں جیسے الصلاۃ، الزکوۃ، الرباء، تاکہ أصل پر دلالت ہو سکے۔ اس صورت میں قراءت قرآنیہ تقدیراً رسم مصحف کے موافق ہوتی [1] النشر: ۲/۳۷۶. [2] سمیر الطالبین: ۳۶.