کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 27
’’تم میرے پاس ہوتے ہوئے یہ اختلاف اور غلطی کر رہے ہو، جو لوگ مجھ سے دور شہروں میں ہیں وہ اس سے بھی شدید اختلاف اور غلطی کرتے ہوں گے۔ اے اصحاب محمد! متحد ہو جاؤ اور لوگوں کے لیے ایک مصحف امام لکھ دو۔‘‘ ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مجھے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ میں مصاحف لکھنے والوں میں شامل تھا۔ جب وہ کسی آیت میں اختلاف کرتے تو ایسے آدمی کو تلاش کرتے جس نے وہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کی ہوتی۔ اور بسا اوقات وہ شخص مدینہ سے باہر دور کسی وادی میں رہنے والا ہوتا۔ چنانچہ وہ اس آیت مختلفہ سے ماقبل اور ما بعد لکھ لیتے اور اس کی جگہ چھوڑ دیتے، حتی کہ وہ شخص آ جاتا یا اسے بلا لیا جاتا، جب مصحف مکمل ہو گیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تمام شہروں میں یہ اعلان کر دیا کہ میں نے کتابت میں ایسے ایسے کیا ہے۔ لہٰذا جو کچھ میں نے اپنے مصحف سے مٹا دیا ہیتم بھی اسے اپنے مصاحف سے مٹا دو۔[1] ۳۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذاتی مصاحف: بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تلاوت کے لیے اپنے ذاتی مصاحف لکھے ہوئے تھے۔ جو تمام أحرف سبعہ پر مشتمل تھے۔ ان مصاحف میں وہ حروف بھی مشتمل تھے جو عرضۂ أخیرہ میں منسوخ ہو گئے تھے، لیکن انہیں اس نسخ کا علم نہیں ہو سکا تھا۔ ان میں سے بعض حروف تفسیر کے قبیل سے تھے۔ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عہد صدیقی میں جمع کیے گئے صحف کی مخالفت کے باوجود اپنے یہ مصاحف سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔ ان ذاتی مصاحف میں سے مصحف ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، مصحف عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، مصحف ابو موسی اشعری اور مصحف مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہما وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔ ان ذاتی مصاحف کا وجود، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اپنے ان ذاتی مصاحف سے تلاوت کرنا اور اس کے مطابق لوگوں کو تعلیم دینا مسلمانوں میں اختلاف کا سبب بن رہا تھا۔ مذکورہ تمام عوامل و اسباب نے مل کر مسلمانوں کو قراءت قرآنیہ میں اختلاف پر لا کھڑا کیا۔ جب وہ کسی جگہ خصوصاً میدان جہاد میں اکٹھے ہوتے تو ایک دوسرے سے اختلاف کرنے لگتے۔ انہی اسباب و عوامل کو سامنے رکھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عہد صدیقی میں جمع کیے گئے صحف سے مصاحف تیار کرنے اور تمام غیر سرکاری مصاحف کو جلا دینے کا حکم دے دیا۔ تاکہ فتنے کا دروازہ بند ہو جائے اور مسلمانوں کا اختلاف رفع ہو جائے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ کام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں انجام دیا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے ثابت رکھا اور کسی ایک صحابی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتحاد گویا اس کام کی صحت و درستگی پر ایک اجماع تھا۔ [2] [1] جامع البیان للطبری: ۱/۲۰۔ مباحث فی علوم القرآن للصبحی صالح: ۸۱. [2] البرھان: ۱/۲۴۰،۔ فضائل القرآن لابن کثیر ملحق بالتفسیر: ۷/۴۴۶.