کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 21
جوان آدمی کام کرنے کی زیادہ قدرت رکھتا ہے اور یہ ایک نہایت مشکل کام تھا۔ عقل مند آدمی معلومات کو بہتر طریقے سے محفوظ کر سکتا ہے، تہمت سے پاک ہونے کی وجہ سے دل ان سے مطمئن ہو جاتا ہے اور کاتب وحی ہونے کی وجہ سے وہ جلدی سے لکھ سکتے تھے اور یہی وہ صفات ہیں جن کی بنیاد پر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں نسخ مصاحف کی کمیٹی کا آپ کو نگران اور سربراہ مقرر کیا گیا۔ تفصیل آگے آ رہی ہے۔[1] اس جلیل القدر خدمت کی ادائیگی پر تقریباً ایک سال کا عرصہ صرف ہوا، کیونکہ جنگ یمامہ گیارہ ہجری کے آخری یا بارہ ہجری کے ابتدائی مہینوں میں واقع ہوئی اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جمادی الأول تیرہ ہجری میں وفات پائی اور جمع قرآن کا کام آپ کی وفات سے کچھ عرصہ قبل مکمل ہو گیا تھا۔ جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جن صحف میں قرآن مجید کو جمع فرمایا تھا وہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دئیے جو ان کی زندگی میں ان کے پاس رہے، پھر ان کی وفات کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے، پھر ان کی شہادت کے بعد سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہے، حتی کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے انہیں منگوا کر ان سے متعدد مصاحف تیار کروائے۔ [2] فوائد:…مذکورہ بالا کلام سے درج ذیل فوائد مستنبط ہوتے ہیں: ۱۔ عہد صدیقی میں جمع قرآن کا سبب، مختلف جنگوں میں قراء کرام کی کثیر شہادتوں کی وجہ سے ضیاع قرآن کا اندیشہ تھا۔ خصوصاً جنگ یمامہ میں بہت زیادہ قراء کرام نے جام شہادت نوش فرمایا۔ ۲۔ یہ فقط نقل اور جمع تھی، چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں قرآن مجید متفرق جگہوں یعنی چمڑے، پتھر کی تختیوں اور جانوروں کی ہڈیوں وغیرہ پر لکھا ہوا موجود تھا اور ایک جگہ جمع نہیں تھا۔ چنانچہ عہد صدیقی میں اسے سورتوں اور آیات کی ترتیب لگا کر ایک جگہ جمع [1] فتح الباری: ۱۰/۳۸۷، رسم المصحف للدکتور غانم قدوری: ۱۰۴ ط العراق. [2] تاریخ طبری: ۳/۴۱۹، البرھان للزرکشی: ۱/۲۳۸.