کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 15
کسی کمی و زیادتی کے لکھا جائے، کتابت کی اس صورت کو رسم املائی کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے اکثر کلمات کی کتابت اسی قاعدے کے مطابق ہوتی ہے۔ جبکہ بعض کلمات اس قاعدے کے خلاف بھی لکھے جاتے ہیں۔ جیسے لفظ ((الصلاۃ)) کو ((الصلوۃ)) اور لفظ ((الزکاۃ)) کو ((الزکوۃ)) لکھا جاتا ہے۔ ان دونوں کلمات کی کتابت واؤ کے ساتھ جبکہ نطق الف کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض کلمات میں الف، واؤ یا یاء کو حذف کر دیا جاتا ہے یا زیادہ کر دیا جاتا ہے۔ اس خلاف قاعدہ کتابت کو رسم عثمانی یا رسم اصطلاحی کہا جاتا ہے۔[1] علمائے کرام نے رسم عثمانی کی کتابت کا یہ طریقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لکھے ہوئے مصاحف سے مستنبط کیا ہے ، جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں لکھے تھے، اور آپ نے اس کتابت کو باقی رکھا تھا۔ [1] اہل علم فرماتے ہیں کہ خط کی تین اقسام ہیں: (۱) خط مصحف: اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کتابت کی اقتداء کی جاتی ہے۔ (۲) خط عروض: اس میں متکلم کے تلفظ کی اتباع کی جاتی ہے۔ جو متکلم بولتا ہے اسے لکھ لیا جاتا ہے اور جو نہیں بولتا، اسے نہیں لکھا جاتا۔ اسی لیے اس خط میں تنوین لکھی جاتی ہے مگر ہمزہ وصلی نہیں لکھا جاتا کیونکہ وہ نطق میں نہیں آتا۔ (۳) خط قیاسی: اس میں ابتداء و وقف کا لحاظ کرتے ہوئے کلمہ کو اس کے حروف تہجی پر لکھا جاتا ہے۔ دیکھئے: البرھان للزرکشی: ۱/۳۷۶، لطائف الاشارات لفنون القراء ات للقسطلانی: ۱/۵۱، شرح مورد الظمان للخراز: ۱/۶، لطائف البیان فی رسم القرآن للشیخ أحمد أبو زیت حار: ۱/۶۴.