کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 110
چنانچہ انہوں نے اس طریقے پر چلتے ہوئے شروع سے لے کر آخر تک مکمل قرآن مجید پر اعراب لگا دئیے۔ امام ابو الأسود الدؤلی رحمہ اللہ کے بعد اہل علم انہی کے وضع کردہ نقط الاعراب پر عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ خلافت عباسیہ کا زمانہ آ گیا، اور معروف جلیل القدر عالم دین امام خلیل بن أحمد الفراہیدی البصری (ت۱۷۰ھ) علمی أفق پر نمودار ہوئے۔ چنانچہ انہوں نے امام ابو الأسود الدؤلی کی وضع کردہ علامات میں مناسب تبدیلیاں کیں اور ان میں بعض خوبصورتیوں کا بھی اضافہ فرمایا: انہوں نے فتحہ کی علامت، بچھا ہوا چھوٹا الف مقرر کی، کیونکہ فتحہ میں اشباع کرنے سے الف پیدا ہوتا ہے۔ ضمہ کی علامت، چھوٹا واؤ مقرر کی، کیونکہ ضمہ میں اشباع کرنے سے واؤ پیدا ہوتی ہے، اور کسرہ کی علامت چھوٹی یاء مقرر کی، کیونکہ کسرہ میں اشباع کرنے سے یاء پیدا ہوتی ہے۔ امام خلیل بن أحمد الفراہیدی نے ان علامات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے تشدید کی علامت ’’ش‘‘ کا سرا، سکون کی علامت ’’خ‘‘ کا سرا اور ہمزہ اشمام و اختلاس وغیرہ کی بھی علامات مقرر کیں۔[1] نقط الاعجام: نقط الاعجام سے مراد وہ علامات ہیں جو مماثل حروف کو باہم ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔ نقط الاعراب کو شکل بھی کہا جاتا ہے، جو امام ابو الأسود الدؤلی کی ایجاد ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی گذر چکا ہے۔ ایک عرصہ تک لوگ اسی پر عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ خلیفہ عبد الملک بن مروان (ت بعد ۱۳۳ھ) کا عہد حکومت آ گیا اور لغت میں غلطی عام ہو گئی۔ چنانچہ عبدالملک بن مروان نے والی ٔ عراق حجاج بن یوسف (ت۹۵ھ) کو حکم دیا کہ وہ لحن اور تحریف کو قرآنی حدود تک پہنچنے سے دور رکھنے کا بندوبست کریں۔ چنانچہ حجاج بن یوسف نے اس عظیم الشان خدمت کی انجام دہی کے لیے عراق کے دو [1] المحکم للدانی: ۳ ،۴.