کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 107
الضبط، اس کا مفہوم اور اسباب مفہوم: ضبط کا لغوی معنی ’’کسی شیء کو محفوظ بنانے کی انتہائی کوشش کرنا‘‘ ہے: ((ضَبَطَ الْکِتَابَ))، ’’اس نے کتاب کو پختہ یاد کر لیا ہے۔‘‘ جبکہ اصطلاح میں علم الضبط سے مراد وہ علم ہے جس کے ذریعے حرف کو لاحق ہونے والی علامات، حرکت، سکون، تشدید، اور مد وغیرہ کی پہچان ہوتی ہے۔ اس کو شکل بھی کہتے ہیں، کہا جاتا ہے۔ ((شَکَّلَ الْکِتَابَ))،’’اس نے کتاب پر اعراب لگا دئیے ہیں۔‘‘یعنی کتاب کو اس چیز کے ساتھ قید کر دیا ہے جس سے اشکال و التباس رفع ہو جاتا ہے۔[1] اور لفظ نُقَطٌ ماخوذ ہے، نَقَطَ الْحَرْفَ یَنْقُطُہُ نُقْطاً سے، اس کا نام ’’نقطہ‘‘ ہے اور جمع ’’نُقَطٌ‘‘ہے۔[2] نقط کی دو اقسام ہیں: ۱۔ نقط الاعراب: نقط الاعراب سے مراد وہ علامات ہیں جو حرکت، سکون، تشدید اور مد وغیرہ پر دلالت کرتی ہیں۔ اس معنی میں یہ ضبط اور شکل کے مترادف ہے۔ ۲۔ نقط الاعجام: نقطہ الاعجام سے مراد وہ علامات ہیں جو مماثل حروف کو باہم ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہیں۔ [1] المعجم الوسیط۔ مجمع اللغۃ العربیۃ: ۱/۴۹۱، ط، الدوحۃ. [2] لسان العرب: ۹/۲۹۴ مادۃ ’’نقط‘‘.