کتاب: قرٖآن مجید کا رسم و ضبط - صفحہ 101
رسم عثمانی سے متعلق مجالس فقہیہ کے فیصلے تمام متقدمین اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ رسم عثمانی توقیفی ہے، اور کسی حالت میں بھی اس کو بدلنا جائز نہیں ہے۔ مجالس فقہیہ جو متعدد محقق اور مخلص اہل علم پر مشتمل ہوتی ہیں، نے اس مسئلہ پر بڑے واضح اور روشن فیصلے صادر فرمائے ہیں، جو عصر حاضر میں علماء امت کے اجماع کی حیثیت رکھتے ہیں یا کم از کم اکثریت کا اعتماد انہیں ضرور حاصل ہے۔ اب ہم ان مجالس کے فیصلوں کو نقل کریں گے تاکہ اس موضوع پر دوبارہ بحث کا دروازہ نہ کھلے۔ ۱۔ مجمع البحوث الاسلامیۃ بالأزھر الشریف کا فیصلہ مجمع البحوث الاسلامیہ بالازھر الشریف نے ۳۰ محرم ۱۳۹۱ھ سے ۵ صفر ۱۳۹۱ء تک منعقد ہونے والی چھٹی کانفرنس میں ((رسم المصاحف العثمانیۃ)) کے عنوان پر فضیلۃ الشیخ الاستاد الدکتور محمد ابو شھبۃ عمید کلیۃ أصول الدین بجا معۃ الأزہر فرع أسیوط کے زیر صدارت تفصیلی بحث کی۔ جس میں مجلس نے عربوں کے ہاں کتابت، ابتداء اسلام میں کتابت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کتابت، عہد صدیقی میں جمع قرآن، عہد عثمانی میں نسخ مصاحف، رسم کا معنی اور اس کے قواعد، رسم عثمانی کے توقیفی یا اجتہادی ہونے پر علماء کرام کے مذاہب اور دلائل، رسم عثمانی کے فوائد اور قرآن مجید کی کتابت و رسم سے متعلق مستشرقین کے بعد شبہات وغیرہ جیسے عناوین پر روشنی ڈالی۔[1] اس موضوع پر تفصیلی دراسہ کے بعد مجلس نے درج ذیل فیصلہ صادر فرمایا: [1] بحوث قرآنیہ، لمجمع البحوث الاسلامیۃ: ۱۴۷، ۱۷۲.