کتاب: قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے - صفحہ 431
٭ اہل عرب کی اہم ترین ذمہ داری : اس دور میں عرب کے مسلمانوں پر قرآن مجید کی تبلیغ کی مسؤلیت بطور خاص زیادہ ہے کیونکہ قرآن انھی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ ان کے لیے شرف و فخر کی یہی متاع بہت ہے کہ وہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے مطالب سمجھتے ہیں اور اس کے مقصد اور مدعا کو زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں، لہٰذا ان پر یہ فرض ہے کہ وہ ساری دنیا کے آگے قرآن عظیم پیش کریں اور تمام انسانوں کو رب ذوالجلال کے احکام پوری وضاحت سے سنائیں۔
کاروان زندگی آگے بھاگا جا رہا ہے۔ بڑا نازک زمانہ آ گیا ہے۔ موجودہ دور کا تقاضا تو یہ ہے کہ اندھے بھی دیکھنے لگیں اور لنگڑے بھی اٹھ کر چل کھڑے ہوں۔
کیا عرب اب بھی خواب غفلت سے بیدار نہ ہوں گے؟ بلاشبہ معاملہ بہت خطرناک ہے، مسؤلیت بہت عظیم ہے، امانت بہت بھاری ہے۔ اس دور میں قرآنی دعوت کا فریضہ عربوں پر بالخصوص اور دوسرے مسلمانوں پر بالعموم عائد ہوتا ہے اور ہم سب پر لازم ہے کہ ہم مادی سرکشی، تہذیب جدید کی چکاچوند، مذہبی کشمکشوں، فکری جنگ اور سیاسی اختلافات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے دوگنی اور چوگنی جدوجہد کریں۔
عجب احوال و ظروف ہیں، کتنا عجیب منظر ہے۔ حصول اقتدار کی خوفناک بھاگ دوڑ کا سامنا ہے۔ وقت کی پکار ہے کہ ہر مسلمان اس شعور سے لیس ہو جائے کہ بلاشبہ وہ اسلام کی سرحدی چوکیوں میں سے کسی ایک چوکی پر تعینات ہے۔ اس شعور و احساس کا مطالبہ ہے کہ وہ فضائی چینلوں، نشری پروگراموں، اخبارات و جرائد اور کتابوں کے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے اور ہر اس مرکز، جمعیت اور ادارے کو سہارا دے اور اسے ناقابل تسخیر قلعہ بنا دے جو قرآن عظیم کا پرچم بلند کر کے تمام ابنائے آدم کو رب ذوالجلال کی بندگی کی دعوت دے رہا ہو۔[1]
…آواز دے رہا ہے زمانہ بڑھے چلو!
[1] قرآنکم…یا مسلمون، ص : 37-32