کتاب: قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے - صفحہ 430
قرآنی احکام کی تفسیر اور اس کے مطالب کی وضاحت کی زیادہ دسترس رکھتے ہیں۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس لیے وحی کیا ہے تاکہ آپ سب سے پہلے اپنی قوم کو ڈرائیں اور پھر تمام لوگوں کو یہ قرآن پہنچا دیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے، تاکہ اس کے ذریعے سے میں تمھیں اور جس جس کو یہ پہنچے ان سب کو ڈراؤں۔‘‘[1]
ربیع بن انس فرماتے ہیں: ’’جو شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اسی طرح دعوت دین دے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور اسی طرح ڈرائے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا۔‘‘[2]
تمام مسلمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں اور ان سب پر آپ کی رسالت کی تبلیغ واجب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
’’(اے نبی!) کہہ دیجیے: یہی میری راہ ہے، میں (تمھیں) اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور وہ لوگ بھی، جنھوں نے میرا اتباع کیا، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں۔‘‘[3]
پس ہر مسلمان کے لیے بذات خود نیک اور صالح ہونا کافی نہیں بلکہ اس کا فرض عین ہے کہ وہ دوسروں کی ہدایت اور اصلاح کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے۔
[1] الأنعام 19:6
[2] تفسیر ابن کثیر: 279/3
[3] یوسف 108:12