کتاب: قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے - صفحہ 428
رہتے ہیں انھیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہمارے قریب ترین دور میں اور زمانۂ حال میں اسلام کے کینہ پرور دشمنوں نے مسلمانوں کو اذیت پہنچانے اور قرآن مجید کی تحقیر کرنے اور اس کی قدر و قیمت گھٹانے کے لیے اس کی بے ادبی کی یہ چال چلی کہ انھوں نے قرآن کریم کی آیات ملبوسات، جوتوں اور دیگر اشیائے ضرورت کی پیکنگ کے ڈبوں پر چھاپنی شروع کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو قرآن کریم کے دشمنوں پر!
’’وہ تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ بھی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘[1]
٭ قرآن جس اصلی مقصد کے لیے آیا ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے کام میں اسے استعمال کرنے سے ڈرنا چاہیے، مثلاً اس کے ذریعے کسی کو پریشان کرنا، بطور تعویذ، برائے حفاظت یا برائے زینت لٹکانا یا اسے صرف تبرک کے لیے حاصل کرنا ممنوع ہے، مزید برآں قرآن کریم کو ان تمام امور میں بروئے کار لانے سے گریز کرنا چاہیے جن کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔[2]
[1] الأنفال 30:8، کیف نحیا بالقرآن، ص: 95-94
[2] المتحف فی أحکام المصحف ، الدکتور صالح بن محمد الرشید، ص: 23-22