کتاب: قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے - صفحہ 427
٭ اسے چھونے کے لیے طہارت شرط ہے۔ اس کے نام ، رسم الخط اور حجم کو چھوٹا نہیں کرنا چاہیے۔ جو شخص قرآن عظیم لکھتا ہے اس سے تاکیداً مطالبہ کیا جائے کہ وہ اسے حسین و جمیل خط میں لکھے اور ایسے ورق پر لکھے جو قرآن کے شایان شان ہو۔[1] ٭ اس کی طرف کسی چیز کی نسبت کرنے، اس کی ملمع سازی اور گل کاری کرنے، اسے زیورات سے آراستہ کرنے، سونے یا چاندی سے لکھنے، عجمی رسم الخط میں لکھنے یا اسے ذریعۂ تجارت بنانے سے احتراز کرنا چاہیے۔ ٭ اس کی طرف پیٹھ کرنے، اسے تکیہ بنانے، رکھتے وقت یا کسی کو پکڑاتے وقت اسے پھینکنے، اس کی طرف ٹانگیں پھیلانے، اس کے ساتھ پنکھا جھلنے ، اسے پکڑتے یا پکڑاتے وقت بایاں ہاتھ استعمال کرنے اور اس کے نام کی تصغیر اور تحقیر کرنے سے بچنا اور ڈرنا چاہیے۔ یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ ’’یہ چھوٹی سی سورت‘‘ ہے۔[2] ٭ اس کے اوپر یا اس کے اوراق کے درمیان میں کوئی چیز رکھنے، گھٹیا مقامات میں داخل ہوتے وقت اسے پاس رکھنے، دشمن کے علاقے کی طرف اس کے ساتھ سفر کرنے اور اسے کسی بھی قسم کی گندگی سے آلودہ کرنے سے بہت ڈرنا چاہیے، مثلاً قرآن کریم کے اوراق پلٹنے کے لیے اپنی انگلی تھوک سے آلودہ نہیں کرنی چاہیے، اسی طرح اسے ایسی جگہ پیش نہیں کرنا چاہیے جہاں اس کی توہین کا خدشہ ہو۔ چھوٹے بچوں، پاگلوں اور کافروں کو قرآن مجید چھونے یا پکڑنے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہیے۔[3] ٭ اسے زمین پر یا مساجد کی دیواروں وغیرہ پر لکھنے سے ڈرنا چاہیے۔ قرآن کریم کے حاشیے یا جلد پر لکھنے سے بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ مدارس کے اکثر طلبا قرآن کریم کے حاشیوں پر لکھتے
[1] الجامع لأحکام القرآن: 44/1 [2] أیضاً : 45/1 [3] أیضاً: 47-46/1