کتاب: قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے - صفحہ 425
اور جھوٹے اور مکار لوگوں کے پاس جا کر ان سے اپنی بیماریوں کی شفا اور دوا کا مطالبہ کرتے ہیں۔
کیا ان مکروہ باتوں سے توبہ کر کے لوٹنا ممکن ہے؟ ہم اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں بخشش اور عافیت کی التجا کرتے ہیں۔[1]
٭ قرآن کریم کی قراء ت میں ٹھہراؤ ہونا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اور قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا اتارا تاکہ آپ اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر سنائیں۔‘‘[2]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ﴿فَرَقْنَاہُ﴾ یعنی ہم نے اسے الگ الگ حصوں میں بانٹا ہے۔‘‘[3]
﴿لِتَقْرَأَہُ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ﴾ یعنی آپ ٹھہر ٹھہر کر آہستہ آہستہ پڑھ کر لوگوں کو سنائیں۔ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنے کا سبب بھی یہی ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ اس کے الفاظ اور معانی سننے والوں کے دل و دماغ میں نقش ہو جائیں۔ [4]
اللہ تعالیٰ نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھہر ٹھہر کر وضاحت سے قرآن کریم پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
’’اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھیے۔‘‘[5]
[1] فتح الرحمان فی بیان ھجر القرآن، محمد آل عبدالعزیز و محمود الملاح،ص : 5-4
[2] بنی إسرآء یل 106:17
[3] صحیح البخاری، فضائل القرآن، باب الترتیل فی القراء ۃ قبل حدیث 5043:
[4] التحریر والتنویر: 181/14
[5] المزمل 4:73