کتاب: قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے - صفحہ 424
پہاڑوں پر نازل کرتا تو وہ بھی اس کی خشیت اور خوف سے پھٹ جاتے۔ مگر انسانوں کے دل سخت ہو گئے، ان کی آنکھیں پتھرا گئیں اور ان کے دل تدبر نہیں کرتے کہ وہ ڈر جائیں، نہ ان کے اعضاء و جوارح قرآن کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں کہ وہ اس کے مطیع بن جائیں اور نہ ان کی آنکھیں متحرک ہوتی ہیں کہ آنسو چھلک اٹھیں۔ عمل کے اعتبار سے بھی قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ سوائے گنتی کے چند لوگوں کے جن پر اللہ نے رحم فرمایا ہے، باقی سب کی حالت یہ ہے کہ ان کے ہاں قرآن کریم زندگی بھر کا کامل منہج قرار پانے کے بجائے اس قابل ٹھہرا ہے کہ قبروں کے پاس اس کی آیات تلاوت کی جائیں اور مردوں کو ان کا ثواب بخش دیا جائے جبکہ خود یہ زندہ لوگ ان سے کہیں زیادہ ان آیات کے ثواب اور انھیں مختلف انداز سے اپنی زندگی کا منہج و دستور بنانے کے محتاج ہیں۔ اکثر لوگ آیات قرآنی کے تعویذ گنڈے بناتے ہیں جنھیں چھوٹے بچوں کے سینوں پر لٹکا دیا جاتا ہے یا بزعم خویش گھروں، محلات اور کاروں وغیرہ کے اندر حفاظت اور حصول برکت کے لیے رکھا جاتا ہے۔ مقدمات وغیرہ میں بھی قرآن کریم سے فیصلے کرانا متروک ہو گیا ہے۔ تنازعات طے کرنے کے لیے قرآن کریم سے رہنمائی لینے کا پاکیزہ دستور منسوخ کر کے مسلمان بہت بڑے گناہ میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ (نعوذباللہ!) آج اللہ تعالیٰ کی شریعت کو کمزوری، عاجزی، کوتاہی کا حامل قرار دیا جا رہا ہے اور پوری ڈھٹائی سے اس پر یہ تہمت تھوپی جا رہی ہے کہ شریعتِ الٰہیہ تہذیب جدید کے قافلے سے پیچھے رہ گئی ہے۔ اب مالی، جانی، خونی اور عزت و آبرو کے مقدمے وضعی قوانین کے فیصلوں کی بنیاد پر چل رہے ہیں۔ افسوس! اب قرآن کریم کے نور شفا سے امراض کا علاج نہیں کرایا جاتا بلکہ اس مقدس اور زندہ کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے اور اس کے بجائے لوگ جادوگروں، قیافہ شناسوں