کتاب: قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے - صفحہ 423
اور اس پر ایمان بھی لائے۔
٭ دین کے اصول و فروع میں قرآن کے فیصلے کو پس پشت ڈالنا اور اپنے جھگڑوں کے فیصلے احکام قرآن کے مطابق نہ کرنا۔ یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ یقینی فائدہ نہیں دیتا بلکہ اس کے دلائل لفظی ہیں اور ان سے کوئی علم حاصل نہیں ہوتا۔
٭ قرآن کریم کے ارشادات پر غور نہ کرنا، ان کا مفہوم نہ سمجھنا اور قرآن کے ساتھ کلام کرنے والے باری تعالیٰ کے مقصد کی پہچان ترک کر دینا۔
٭ دل کی بیماریوں میں قرآن کے نسخۂ شفا سے کوئی فائدہ نہ اٹھانا بلکہ اپنی بیماری کے لیے قرآن کے بجائے غیروں سے شفا طلب کرنا اور قرآنی علاج کو ترک کر دینا۔‘‘[1]
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے قرآن کریم سے ترک تعلق کی جو قسمیں بیان کی ہیں وہ سب آج واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ تلاوت کے اعتبار سے قرآن کریم سے ترک تعلق کر لیا گیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس کو یاد کرنے، حفظ کرنے اور اس کی تعلیم و تعلم سے بے رغبتی اختیار کر لی ہے، جبکہ اس کے برعکس وہ متعدد جائز اور ناجائز معلوماتی لٹریچر اور اخبارات و جرائد کا مطالعہ کرنے کے بڑے حریص ہیں تاکہ وہ بڑی حسرت اور شوق سے ایسی خبریں اور معلومات ازبر کر لیں جن پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔
قرآن کریم غور سے سننابھی چھوڑ دیا گیا ہے۔ اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ قرآن کریم سننے سنانے کا تعلق تو صرف رنج و غم کے مواقع یا ماتمی پنڈالوں سے ہے۔ اکثر تو لہو ولعب، موسیقی، گانے، شیطان کے باجے اور بانسریاں سنتے ہیں۔ انھوں نے اللہ رحمان و رحیم کے قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔ غور و فکر کے اعتبار سے بھی قرآن عزیز کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ قرآن کو ان بلند و بالا اور زمین میں میخوں کی طرح گڑے ہوئے
[1] الفوائد ، ص: 156