کتاب: قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے - صفحہ 421
قرآن کریم کو ذریعہ معاش بنانا مکروہ ہے اور نجس منہ کے ساتھ قراء ت کرنا، بازاروں میں شور و غل اور لہو و لعب کے مقامات پر اور بے وقوفوں کے مجمعوں میں اونچی آواز سے تلاوت کرنا بھی مکروہ ہے، اسی طرح قہوہ خانوں میں اور ایسے پبلک مقامات پر جہری تلاوت مکروہ ہے جہاں قراء ت قرآن کو سنا ہی نہیں جاتا بلکہ اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اسے لہو و لعب کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
دنیاوی امورو معاملات کا کوئی موقع پیش آئے تو ایسے موقع پر قرآن کریم کی کسی آیت کی تاویل کرنا بھی مکروہ ہے، مثلاً اچانک کوئی شخص آئے تو کوئی یہ کہہ دے:
’’اے موسیٰ! تو تقدیر الٰہی کے مطابق یہاں آیا۔‘‘[1]
یا دستر خوان پر کھانا آئے تو یہ آیت پڑھ دے:
’’مزے سے کھاؤ اور پیو ان (اعمال) کے بدلے جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجے۔‘‘[2]
اس طرح کے ہنگامی دنیاوی امور کے سلسلے میں متعلقہ قرآنی آیت پڑھنا مناسب نہیں۔ قرآن کریم کو الٹا پڑھنا یکسر ناجائز ہے جیسا کہ بعض لوگ مہارت دکھانے کے زعم میں اس طرح پڑھتے ہیں (الضالین ولا علیھم المغضوب غیر…) نعوذ باللّٰہ من ذلک۔[3]
[1] طٰہٰ 40:20
[2] الحآقۃ 24:69
[3] حق التلاوۃ ، حسنی شیخ عثمان، ص: 401
جو شخص مزید آداب تلاوت کی تفصیل جاننا چاہے، اسے امام نووی رحمہ اللہ کی بے مثل کتاب ’’التبیان فی آداب حملۃ القرآن‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے جس میں آداب تلاوت قرآن بہ تمام و کمال بتلا دیے گئے ہیں۔