کتاب: قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے - صفحہ 362
گا۔ اس کے والدین کو دو ایسے قیمتی جوڑے پہنائے جائیں گے جن کا سامنا اہل دنیا نہیں کر سکیں گے۔ اس کے والدین پوچھیں گے: ’’ہمیں یہ جوڑے کیوں پہنائے گئے ہیں؟‘‘ کہا جائے گا:’’تم دونوں کے بیٹے کے حصول قرآن کی وجہ سے!‘‘
((ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: اقْرَأْ وَاصْعَدْ فِي دَرَجِ (3) الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا، فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ، هَذًّا كَانَ، أَوْ تَرْتِيلًا))
پھر صاحب قرآن سے کہا جائے گا: ’’قرآن کریم کی تلاوت شروع کرو اور جنت کے درجات اور اس کے بالا خانوں پر چڑھتے چلے جاؤ۔ چاہے وہ تیزی سے پڑھے یا ترتیل کے ساتھ آہستہ آہستہ، جب تک وہ قرآن پڑھتا رہے گا اس وقت تک وہ اوپر کے درجوں پر چڑھتا چلا جائے گا۔‘‘[1]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ. لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، فَيَقُولَانِ: يَا رَبُّ، أَنَّى لَنَا هَذَا؟ فَيُقَالُ لَهُمَا: بِتَعْلِيمِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ))
’’اس کے والدین کو دو ایسی (عظیم الشان) پوشاکیں پہنائی جائیں گی کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے وہ ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکیں گے۔ تب وہ دونوں ماں باپ کہیں گے: ’’اے ہمارے رب! یہ ہمیں کیوں نصیب ہوئی ہیں؟‘‘ ان سے کہا جائے گا:’’تم دونوں کے بیٹے کی تعلیم قرآن کی وجہ سے …‘‘[2]
یہ عظیم انعام انھیں ایسی جگہ سے حاصل ہو گا جس کا انھیں وہم و گمان بھی نہیں ہو گا۔ اس
[1] مسند أحمد:348/5حدیث : 23000مسند کے محققین شیخ شعیب ارنؤوط اور ان کے ساتھیوں نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ۔ (42:38)
[2] المعجم الأوسط للطبرانی: 51/6، حدیث : 5764 اسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ میں ذکر کیا ہے (792/6، حدیث : 2829)