کتاب: قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے - صفحہ 293
قرآن کریم کے ساتھ دعوت دینے کا عملی نفاذ
بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن عظیم کے ذریعے سے اپنے قول و عمل، رہنمائی اور ہدایت کی روشنی میں بڑے وقار اور تمکنت سے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا:
((فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ))
’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نبی کا خلق قرآن تھا۔‘‘[1]
یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اقوال، افعال، احوال اور امور زندگی میں ٹھیک ٹھیک قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل کرتے تھے، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق قیامت کے دن آپ کے پیروکاروں کی کثرت کا سب سے بڑا سبب آپ پر قرآن کریم کا نزول ہی
[1] صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب جامع صلاۃ اللیل ومن نام…، حدیث : 746
اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کا عمل ٹھیک قرآن حکیم کے مطابق تھا۔ آپ قرآن کی حدود کا پاس کرتے تھے، اس کے آداب ملحوظ خاطر رکھتے تھے، اس کی مثالوں اور واقعات سے عبرت حاصل کرتے، اس میں غور فکر کرتے اور احسن طریقے سے اس کی تلاوت کرتے تھے۔