کتاب: قرآن کی عظمتیں اور اس کے معجزے - صفحہ 285
ڈال دیا، جیسے ولید بن مغیرہ وغیرہ۔ قرآن کریم کی شان و شوکت اور حسن و جمال کو ہر عاجز اور گڑگڑانے والا دل محسوس کرتا ہے اور کسی نہ کسی طرح اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا، لیکن عرب جھگڑالو قوم تھے جیسا کہ قرآن عظیم نے ان کے بارے میں بتایا ہے: ’’یہ لوگ نرے جھگڑالو ہیں۔‘‘[1] اور وہ بہت جھگڑا کرنے والے دشمن تھے، چنانچہ فرمایا: ’’اور اس کے ساتھ جھگڑالو قوم کو ڈرائیں۔‘‘[2] یہ جھگڑالو لوگ قرآن کریم کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلانے اور اس کی شان میں گستاخی کرنے پر اُتر آئے اور اس کی قدر و قیمت گھٹانے کے لیے ہمہ گیر مہم چلانے لگے۔ بلا شبہ بعض ایسے مبلغین اور داعیوں پر تعجب ہوتا ہے جو قرآن کی آیات سے عمداً یا مخاطبین کے دلوں پر قرآن کریم کی اثر اندازی سے عدم توجہ کے باعث غفلت برتتے ہیں۔ وہ اپنی دعوت کے دوران میں کلام الٰہی کے علاوہ ہر اس کلام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں جو ان کے دل میں سما جاتا ہے۔ وہ آیات قرآنیہ سے بہت کم استدلال کرتے ہیں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ لمبی چوڑی اور ہمہ گیر گفتگو کرنے کے باوجود ان کے لبوں سے قرآن کریم کی ایک آیت بھی سنائی نہیں دیتی۔[3]
[1] الزخرف 58:47 [2] مریم 97:19 [3] اس گفتگو کا یہ مقصد نہیں ہے کہ مبلغین اور داعی حضرات اپنی دعوت و تبلیغ کے دوران میں فقط قرآنی آیات کی تلاوت ہی پر اکتفا کریں اور توضیح و تفصیل، تفسیر، وجوہ بیان، ضرب الامثال، شواہد اور عبرت انگیز واقعات سے پرہیز کریں کیونکہ یہ بات قرآن کریم کی نص اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور سنت کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: Ē وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ Ě’’اور ہم نے آپ پر یہ ذکر (قرآن) نازل کیا، تاکہ آپ لوگوں کے سامنے بیان کریں جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا، اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔‘‘ (النحل 44:16)