کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 96
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے یہ آیت مجھے ایسے ایسے پڑھائی ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں! اس دوسرے آدمی نے کہا: کیا آپ نے مجھے ایسے ایسے نہیں پڑھائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! آپ نے فرمایا: میرے پاس سیدنا جبرئیل اور سیدنا میکائیل علیہ السلام تشریف لائے، سیدنا جبرئیل علیہ السلام میری دائیں جانب اور سیدنا میکائیل علیہ السلام میری بائیں جانب بیٹھ گئے۔ سیدنا جبرئیل علیہ السلام نے کہا: آپ ایک حرف پر قرآن مجید پڑھیں۔ سیدنا میکائیل علیہ السلام نے کہا: ان سے زیادہ طلب کریں حتی کہ وہ سات حروف تک پہنچ گئے، اور تمام حروف کافی و شافی ہیں۔‘‘[1] امام حاکم رحمہ اللہ ، عاصم جحدری عن ابی بکر کے طریق سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿مُتَّکِئِینَ عَلٰی رَفَارِفَ خُضْرٍ وَّعَبَاقَرِیٍّ حِسَانٍ﴾ [2] پڑھا۔ اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرْأَتِ اَعْیُنٍ﴾[3] پڑھا۔ اسی طرح مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ﴾ اور ﴿مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ﴾ دونوں طرح پڑھا۔[4] ۲۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر کا اختلاف: امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اس آسانی میں یہ بات بھی شامل تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر شخص اپنی لغت اور عادت کے مطابق قراء ت کرے، چنانچہ ہذلی شخص ﴿حَتّٰی حِیْنٍ﴾ (یوسف: ۳۵) کو ﴿عَتّٰی حِیْنٍ﴾ پڑھتا تھا، اسدی علامت مضارع کو کسرہ سے ﴿تِعْلَمُوْنَ﴾(البقرۃ: ۲۲) ، ﴿تِعْلَمُ﴾ (البقرۃ: ۱۰۶)، [1] فضائل القرآن لابن کثیر: ۲۸. [2] الرحمن: ۷۶. [3] السجدۃ: ۱۷۔ الإتقان: ۱/۷۷. [4] الفاتحۃ: ۴، إبراز المعانی: ۵۵.