کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 93
چوتھی فصل: اختلافِ قراءات اور اس کے اسباب وجوہ اختلاف: امام باقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ ، امام فخر رازی رحمہ اللہ اور امام ابن الجزری رحمہ اللہ وغیرہ نے استقراء کے ذریعے قراءات کی اختلافی وجوہ کو شمار کیا ہے۔ اور ان سب کا استقراء اس امر پر مکمل ہوتا ہے کہ قراءات قرآنیہ کا اختلاف درج ذیل سات وجوہ میں محصور ہے۔ ۱۔ کلمہ کا معنی اور صورت بدلے بغیر حرکات کا اختلاف: جیسے ﴿وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ﴾[1] میں لفظ ﴿وَیَضِیْقُ﴾ کی قاف کو رفع اور نصب دونوں سے پڑھا گیا ہے۔ اسی طرح ﴿ہُنَّ اَطْہَرُلَکُمْ ﴾ [2] میں لفظ ﴿اَطْہَرُ﴾ کی راء کو رفع اور نصب دونوں طرح سے پڑھا گیا ہے۔ ۲۔ کلمہ کی حرکات کا ایسا اختلاف کہ جس میں معنی بدل جائے اور صورت باقی رہے: جیسے ﴿وَّ کَفَّلَہَا زَکَرِیَّا﴾ [3] میں لفظ ﴿کَفَّلَہَا﴾ کو مخفف اور مشدد اور لفظ ﴿زَکَرِیَّا﴾ کو رفع اور نصب دونوں طرح سے پڑھایا گیا ہے۔ ۳۔ کلمہ کے حروف کا ایسا اختلاف کہ جس میں معنی بدل جائے اور صورت باقی رہے: جیسے ﴿انْظُرْ اِلَے الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُہَا﴾ میں لفظ ﴿نُنْشِزُہَا﴾ کو زاء معجمہ اور راء مہملہ دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ [1] الشعراء: ۱۳. [2] ہود: ۷۸. [3] آل عمران: ۳۷.