کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 89
چکا ہے۔ ’’الاتقان‘‘ میں لکھا ہے کہ متکلمین کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ قراءات، اوجہ یا حروف کے اثبات میں رائے و اجتہاد کو بروئے کار لانا ایک درست عمل ہے، بشرطیکہ یہ وجوہ عربیت میں صحیح ہوں، اگرچہ یہ نہ بھی ثابت ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان وجوہ کو پڑھا تھا، جبکہ اہل حق نے اس موقف کا انکار کیا ہے، اور ایسا کہنے والوں کو مبنی بر خطا قرار دیا ہے۔ [1] قراء ت کو اجتہادی قرار دینے والی رائے، علمی و عملی طور پر مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے، اور یہ اجماع ہی اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دلائل بھی موجود ہیں جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ ٭ بعض اہل علم کا موقف ہے کہ قیاسِ مقبول، مصادر قراءات میں سے ایک مصدر ہے۔ قیاسِ مقبول سے مراد یہ ہے کہ جو قراء ت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں ہے، اس کو آپ سے مروی قراءات پر محمول کر لیا جائے، کیونکہ ان دونوں حروف کے درمیان علت مشترک ہے۔ صاحب کتاب المبانی، اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: ’’قراءات میں دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید ایک لغت پر نازل ہوا تھا، پھر قراء کرام نے اسے لغات عرب میں سے دیگر ایسی لغات پر پڑھنا شروع کر دیا، جن سے معنی میں اختلاف واقع نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ آسانی اور وسعت کی غرض سے ان پر انکار نہیں کیا گیا۔ پس اس کو آگے نقل کیا گیا اور بعض قراء نے اس کے ساتھ پڑھا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سورۃ الانشراح کی آیت نمبر دو )۲( کو ﴿وَحَلَّلْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ ﴾ پڑھا تھا۔ اور اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس قسم کی کوئی قراء ت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھی گئی ہو، پس آپ نے اس کا انکار نہ کیا ہو۔‘‘ [2] [1] الاتقان: ۱/۷۸ نقلا عن انتصار القاضی أبوبکر. [2] المبانی: ۱۷۰.