کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 74
کیونکہ یہ علم اجمالی، علم تفصیلی کی طرف راہنمائی کرتا ہے، اور وہ علم حدیث اور علم رجال کے اصول و قواعد کی اتباع کرنا ہے ۔ لہٰذا ہم قراءات میں اس جیسے اشکالات پیدا نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ قراءات … ایک دوسری… سنت ہیں۔ ان میں ہم انہی اصولوں پر چلیں گے، جن پر حدیث میں چلتے ہیں۔ علماء قراءات نے قاری اور قراء ت دونوں کی اصلاح کے لیے قواعد و ضوابط وضع کیے ہیں۔ اور علم قراءات و علم اسانید القراءات کے اصول متعارف کروائے ہیں۔ انہی اصول و قواعد کے سبب امام ہروی رحمہ اللہ نے امام ابو جعفر مدنی رحمہ اللہ اور امام یعقوب بصری رحمہ اللہ کی قراءات کو قراءات معتبرہ میں شمار کیا ہے: چنانچہ وہ فرماتے ہیں: ((لِأَنَّا وَجَدْنَا قِرَآئَ تَہُمَا عَلٰی الشَّرْطِ الَّذِیْ وَجَدْنَاہُ فِیْ قِرَآئَ ۃِ غَیْرِھِمَا۔ مِمَّنْ بَعْدَہُمَا۔ فِیْ الْعِلْمِ وَالثِّقَۃِ بِہِمَا، وَاتِّصَالِ سَنَدِھِمَا، وَانْتِفَآئِ الطَّعْنِ فِیْ رِوَاَیِتھِمَا)) [1] ’’بے شک ہم نے ان دونوں کی قراءات کو اس شرط پر پورا اترتا ہوا پایا ہے، جو ان کے علاوہ دیگر کی قراءات میں پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں عالم اور ثقہ تھے، اور ان کی قراء ت کی سند متصل ہے، اور ان کی روایات پر کوئی طعن بھی نہیں ہے۔‘‘ مذکورہ کلام سے اس امر پر روشنی پڑتی ہے کہ قراء ت کے اختیار و عدم اختیار میں اہل علم روایت کے معیار کا کتنا زیادہ اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ علمائے قراءات کے اہتمام کا روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ہر قاری کی شخصیت کو جرح و تعدیل کے میزان پر تولا ہے۔ جیسے علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ نے اپنی طبقات میں متعدد قراء کرام کے تراجم بیان فرمائے ہیں۔ چنانچہ ہارون بن حاتم رحمہ اللہ ابو بشر کوفی بزاز رحمہ اللہ کے ترجمہ فرماتے ہیں: ((مُقْرِیٌٔ مَشْہُوْرٌ ضَعَّفُوْہُ)) [2] [1] البرہان: ۱/۳۳۰. [2] الطبقات للجزری: ۲/ ۳۴۵.