کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 66
((اَلْقُرْآنُ وَالْقِرَآئَ اتُ حَقِیْقَتَانِ مُتَغَایِرَ تَانِ، فَالْقُرْآنُ: ہُوَ الْوَحْیُ الْمُنَزَّلُ عَلٰی مُحَمَّدٍ صلي اللّٰه عليه وسلم لِلْبِیَانِ وَالْاِعْجَازِ، وَالْقِرَآئَ اتُ: اِخْتِلَافُ أَلْفَاظِ الْوَحْیِ الْمَذْکُوْرِ فِیْ الْحُرُوْفِ وَکَیْفِیَّتِھَا مِنْ تَخْفِیْفٍ وَتَشْدِیْدٍ وَغَیْرِھِمَا)) [1] ’’قرآن اور قراءات دو متغایر حقیقتیں ہیں، قرآن مجید سے مراد، بیان و اعجاز کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی ہے، جبکہ قراءات سے مراد، الفاظ وحی کا وہ اختلاف ہے، جو حروف اور تحفیف و تشدید وغیرہ جیسی ان کی کیفیت میں مذکور ہے۔ امام قسطلانی رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب ’’لطائف الإشارات‘‘ میں اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔ [2] معاصرین میں سے ڈاکٹر صبحی صالح[3]، سید ابو القاسم خوئی [4] اور ابراہیم ابیاری[5] کا بھی یہی موقف ہے۔ ۲۔ قراءات متواترہ، عین قرآن ہیں: یعنی ہر وہ قراء ت جس میں قراءات صحیحہ کی شرائط (صحت سند، موافقت عربیت اور موافقت رسم) پائی جائیں وہ عین قرآن ہے۔ اور جس میں ایک بھی شرط مفقود ہو، وہ فقط قراء ت ہے۔ یہ جمہور اہل علم اور مقرئین کی رائے ہے۔ ۳۔ ہر قراء ت قرآن ہے، خواہ وہ شاذہ ہی ہو۔ یہ امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ کی رائے ہے۔ [1] البرہان: ۱/ ۳۱۸. [2] لطائف الاشارات: ۱/۱۷۱. [3] دیکھیں: ان کی کتاب ’’ مباحث فی علوم القرآن‘‘. [4] دیکھیں ان کی کتاب ’’ البیان فی تفسیر القرآن‘‘. [5] دیکھیں: ’’الموسوعۃ القرآنیۃ، المجلد الأول‘‘.