کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 62
’’ہر وہ قراء ت جو مطلقاً عربیت کے موافق ہو، مصاحف عثمانیہ میں سے کسی ایک کے مطابق ہو، خواہ تقدیراً، اور تواتر سے منقول ہو، وہ قطعی طور پر قراء ت متواترہ ہے۔‘‘ ۲۔ صحیحہ: اس کی پھر دو قسمیں ہیں: ۱۔ ارکان ثلاثہ کی جامع اور ۲۔ شاذہ (الف) ارکان ثلاثہ کی جامع: علامہ ابن الجزری اس کی تعریف میں لکھتے ہیں: ((مَا صَحَّ سَنَدُہُ بِنَقْلِ الْعَدْلِ الضَّابِطِ عَنِ الضَّابِطِ، کَذَا، اِلٰی مُنْتَھَاہُ، وَوَافَقَ الْعَرَبِیَّۃَ وَالرَّسْمَ)) [1] ’’وہ قراء ت جس کی سند شروع سے آخر تک عادل و ضابط کی ضابط سے نقل کے ساتھ صحیح ہو، اور وہ عربیت ورسم کے موافق ہو۔‘‘ اس کی پھر دو قسمیں ہیں: ۱۔ مستفیضہ ۲۔ غیر مستفیضہ ۱۔ مستفیضہ: اس سے مراد وہ قراء ت ہے جو مشہور ہوگئی ہو، اور اسے امت کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہو۔ [2] علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ اس کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں، کہ اس سے مراد وہ قراء ت ہے جسے بعض راویوں یا بعض کتب معتبرہ نے منفرد طور پر بیان کیا ہو، یا جیسے مد میں مراتب قراء ت ہیں۔ اس قسم کو … ان کی رائے میں … قراء ت متواترہ کے ساتھ ملحق کیا جاتا ہے، اگرچہ یہ اس مرتبے کی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ لوگوں میں مشہور ہوتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ متصل ہونے کی وجہ سے علم مفید کا فائدہ دیتی ہے، جو اسے قرآن ماننے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ [1] منجد المقرئین: ۱۶. [2] منجد المقرئین کے ایک نسخہ میں (تلقاہ الأئمۃ) کے الفاظ ہیں جبکہ درست الفاظ (الأمۃ) ہیں، اس کی دلیل دونوں اقسام کی تعریف میں اس لفظ کا استعمال ہے، جو ہر جگہ (الأمۃ) مستعمل ہے.