کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 61
کہ وہ قراء ت تلاوت کے اعتبار سے ہو، کہ مسلسل پڑھا جائے، یا اداء کے اعتبار سے ہو، کہ مشائخ سے اخذ کرکے پڑھا جائے۔‘‘ [1] ان تعریفات سے معلوم ہوتا ہے کہ قراء ت سے مراد، الفاظِ قرآن کو اس طرح پڑھنا ہے، جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا، یا جس طرح آپ کے سامنے پڑھا گیا اور آپ نے اس کو باقی رکھا۔ برابر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول لفظ کا نطق فعلاً ہو یا تقریراً، ایک لفظ کا ہو یا متعدد الفاظ کا ہو۔ یعنی قراء ت کبھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بالفعل سن کر ثابت ہوتی ہے اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھی گئی قراء ت جسے آپ نے ثابت رکھا ہو،[2] کو نقل کرنے سے ثابت ہوتی ہے۔ اور قراء ت کا کبھی ایک ہی لفظ روایت کیا جاتا ہے، جسے قراء کے ہاں متفق علیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور کبھی ایک سے زائد الفاظ روایت کیے جاتے ہیں، جسے قراء کے ہاں مختلف فیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قراءات کی اقسام: تعریفات میں مذکور اوصاف اور معیارات (صحت سند، موافقت عربیت اور موافقت رسم) کی روشنی میں قراءات کی دو قسمیں سامنے آتی ہیں: متواترہ اور صحیحہ۔ ۱۔ متواترہ: علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ اس کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ((کُلُّ قِرَآئَ ۃٍ وَافَقَتِ الْعَرَبِیَّۃَ مُطْلَقًا، وَوَافَقَتْ أَحَدَ الْمَصَاحِفِ الْعُثْمَانِیَّۃِ وَلَوْ تَقْدِیْرًا، وَتَوَاتَرَ نَقْلُھَا، ہٰذِہٖ الْقِرَآئَ ۃُ الْمُتَوَاتِرَۃُ، الْمَقْطُوْعُ بِہَا)) [3] [1] کشاف اصطلاحات الفنون: ۵/۱۱۵۸. [2] حقیقت میں یہ بھی وحی ہوتی ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی پڑھائی ہوتی ہے کیونکہ مختلف صحابہ کا جب قرآن کی قراء ت کرتے ہوئے اختلاف ہوا تو جب دوسرا سوال کرتا تو پھر ایک ہی جواب دیتا: ((ہٰکَذَا أقرأ نیہا رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم )) ’’کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح پڑھایا ہے۔‘‘ (واللہ اعلم). [3] منجد المقرئین: ۱۵.