کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 57
معاصر امام ابن شنبوذ رحمہ اللہ (ت ۳۲۸ھ) نے اختلاف کیا ہے، وہ رسم مصحف کی مخالفت کے باوجود جواز قراء ت کے قائل تھے، بشرطیکہ وہ روایت صحیح سند سے ثابت ہو۔ [1] اس اختلاف کا تعلق… جیسا کہ سمجھا جاتا ہے… امام ابن مجاہد رحمہ اللہ سے معاصرت [2] اور امام ابن شنبوذ رحمہ اللہ کا رسم مصحف کی موافقت کی شرط کو اہمیت نہ دینے سے ہے کیونکہ مصاحف عثمانیہ اس لفظ پر لکھے گئے تھے، جو ’’عرضه اخیرہ‘‘ میں باقی رکھا گیا تھا جیسا کہ تمام مفسرین اور مؤرخین نے نقل کیا ہے۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’سیدنا جبرئیل علیہ السلام ہر سال ماہ رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرمایا کرتے تھے، آپ کی وفات والے آخری سال انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطور تأکید و تثبیت دو مرتبہ دور فرمایا۔‘‘ [3] علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’مصاحف عثمانیہ کو عرضۂ اخیرہ میں باقی رکھے جانے والے لفظ پر لکھا گیا تھا، جیسا کہ ایک سے زائد ائمہ سلف نے صراحت کی ہے۔‘‘ [4] یا پھر انہوں نے امام ابن مجاہد رحمہ اللہ کے مقرر کردہ معیار کو پسند نہیں کیا، کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ بعض قراءات متواترہ رسم مصحف کے مخالف ہیں جیسے ((جیٔ)) کو ((جایٔ)) الف کے ساتھ، اور ((لأذبحنہ)) کو ((لأاذبحنہ)) [5] الف زائدہ کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ اسی طرح امام ابوعمرو بصری رحمہ اللہ کی قراء ت ((ہذین)) بالیاء کو ((ہذان)) بالالف، اور ((فاصدق وأکون)) بالواؤ کو ((واکن)) [6] بدون الواؤ لکھا گیا ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ امام ابن شنبوذ رحمہ اللہ نے امام ابن مجاہد رحمہ اللہ [1] تاریخ القرآن للشاہین: ۲۰۷. [2] ابن شنبوذ کے ترجمہ میں طبقات ذہبی اور طبقات جزری دیکھیں، تاریخ القرآن لشاہین: ۲۰۷. [3] فضائل القرآن: ۶. [4] النشر: ۱/۸. [5] غیث النفع: ۲۱۸. [6] الصاحبی: ۱۱.