کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 53
۱۔ عربیت میں اس وجہ کی قوت ۲۔ مصحف عثمانی کے رسم کی موافقت ۳۔ عامۃ الناس کا اتفاق ان کے نزدیک عامۃ الناس سے مراد اہل مدینہ واہل کوفہ کا اتفاق ہے۔ ان کے نزدیک یہ بڑی قوی حجت ہے اور اسے اختیار کرنا واجب ہے۔ بسا اوقات انہوں نے عامۃ الناس سے اہل حرمین کا اتفاق مراد لیا ہے۔ اور بسا اوقات انہوں نے ان حروف کو اختیار کیا ہے، جن پر امام نافع رحمہ اللہ اور امام عاصم رحمہ اللہ کا اتفاق ہو۔ ان دونوں ائمہ کی قراءات، تمام قراءات سے ثقہ، سنداً زیادہ صحیح اور عربیت میں زیادہ فصیح ہیں۔ اور فصاحت میں خاص طور پر وہ امام ابو عمرو بصری رحمہ اللہ اور امام کسائی رحمہ اللہ کی قراء ت پڑھتے ہیں۔ [1] جب ہم چوتھی صدی ہجری سے امام ابن خالویہ رحمہ اللہ کی کتاب القراءات میں مذکور قراءات متواترہ کے معیار میں پیش آنے والے ارتقائی مراحل کا جائزہ لیتے ہیں تو اس معیار کی تیسری شرط میں واقع ہونے والی تبدیلی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ پہلے اس میں آئمہ کرام سے ثابت ہونے کی شرط لگائی جاتی تھی، اب اس میں عامۃ الناس کے اتفاق کی شرط لگا دی گئی، اور قراءات متواترہ کے معیار میں اس ارتقاء کا بنیادی مقصد ایسے قواعد وضوابط کی تیاری تھا جو قراءات متواترہ وغیر متواترہ میں تفریق کرنے والے، اور ان کو باہم ایک دوسرے میں داخل ہونے سے روکنے والے ہوں۔ سولہواں مرحلہ: اس مرحلہ پر قراءات صحیحہ وغیر صحیحہ میں تفریق کرنے والے قواعد وضوابط اور معیارات [1] الابانۃ: ۴۸، ۵۰.