کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 50
کتب، جنہیں بہت زیادہ شہرت اور قبولیت حاصل ہوئی،ا ور امام شاطبی رحمہ اللہ نے ان کی کتاب ’’التیسیر‘‘ کو منظوم کر دیا، اور شاطبیہ کو بطور درس پڑھا پڑھایا جانے لگا۔ کیونکہ ہم چوتھی صدی ہجری میں لکھی جانے والی امام ابن مجاہد رحمہ اللہ کی کتاب السبعۃ اور ان کے شاگرد امام ابن خالویہ رحمہ اللہ [1] کی کتاب میں بعض ایسے حروف پاتے ہیں، جنہیں پانچویں صدی ہجری اور ان کے بعد آنے والے قراء کرام نے شاذ قرار دیا ہے، جیسے امام ابن کثیر مکی رحمہ اللہ کی سورۃ الفاتحہ میں ﴿غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ﴾ میں لفظ ﴿غَیْرِ﴾ کی راء کے فتحہ والی قراء ت، اور سورۃ المدثر کے ﴿لَاِِحْدَی الْکُبَرِ﴾ میں بغیر ہمزہ ﴿لَحْدَی﴾ والی قراء ت کو شاذ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح امام ابن خالویہ رحمہ اللہ کی کتاب ’’مختصر البدیع‘‘ میں بعض ایسی شاذ قراءات پائی جاتی ہیں جنہیں پانچویں صدی ہجری اور اس کے بعد والے قراء کرام متواتر شمار کرتے ہیں۔[2] جیسے بروایت بزی ﴿سحابُ ظلماتٍ﴾ (النور:۴۰) کی اضافت والی امام مکی رحمہ اللہ کی قراء ت۔ ان کتب کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ امام ابو عمرو دانی رحمہ اللہ کا زمانہ ہی وہ زمانہ ہے جس میں قراءات صحیحہ اور قراءات شاذہ کے درمیان تمیز قائم ہوئی۔ پندرہواں مرحلہ: اس مرحلہ پر اہل علم نے قراءات قرآنیہ کو ایک ایک، چھ چھ، آٹھ آٹھ اور دس دس کے عدد میں جمع کرنا شروع کر دیا، تاکہ امام ابن مجاہد رحمہ اللہ کی جمع کردہ قراءات سبعہ سے لوگوں کے قلوب و اذہان میں جو وہم پیدا ہو چکا ہے کہ یہی قراءات سبعہ ہی حدیث مبارکہ ((أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ)) [3] میں وارد ’’أحرف سبعۃ‘‘ ہیں، اس کو دور کیا جاسکے۔ [1] کتاب القراءات دیکھیں. [2] میرے رسالہ ’’قراء ۃ ابن کثیر وأثرہا فی الدراسات النحویۃ‘‘ میں ان قراءات کی تعریف کر دی گئی ہے. [3] مقدمتان فی علوم القرآن: ۲۰۷.