کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 49
۲۳۔ محمد بن محمود بن نجار رحمہ اللہ ( ۸۴۳ھ) کی شرح ۲۴۔ احمد حصکفی رحمہ اللہ (ت ۸۹۵ھ) کی شرح ۲۵۔ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ (ت ۹۱۱ھ) کی شرح ۲۶۔ امام احمد بن محمد قسطلانی رحمہ اللہ (ت ۹۲۳ھ) کی ’’فتح الدانی‘‘ ۲۷۔ حسین بن علی الحصنی رحمہ اللہ کی ’’الغایۃ‘‘ یہ انہوں نے ۹۶۰ھ میں لکھی ہے۔ ۲۸۔ محمد بن الاندلسی رحمہ اللہ کی شرح ۲۹۔ امام احمد المغنیساوی رحمہ اللہ (ت حدود ۱۰۹۰ھ) کی ’’اظہار المعانی‘‘ بعض اہل علم نے شاطبیہ کے اختصارات لکھے، جن میں سے چند مشہور درج ذیل ہیں۔ ۱۔ ابن مالک نحوی رحمہ اللہ (ت ۶۷۲ھ) کا اختصار ’’حوز المعانی‘‘ ۲۔ ابن تبریزی رحمہ اللہ (ت ۷۶۵ھ) کا اختصار ۳۔ عبدالوہاب بن احمد بن وہبان دمشقی رحمہ اللہ (ت ۷۶۸ھ) کا اختصار ’’نظم دررالجلا‘‘ ۴۔ بلال رومی رحمہ اللہ کا اختصار بعض اہل علم نے شاطبیہ کے تکملات لکھے، جن میں سے چند مشہور درج ذیل ہیں۔ ۱۔ ابن الفصیح ہمدانی رحمہ اللہ (ت ۷۵۵ھ) کا تکملہ ’’نظیرۃ‘‘ ۲۔ احمد بن محمد بن سعید شرعی یمنی رحمہ اللہ (ت ۸۳۹ھ) کا تکملہ ’’ تکملۃ فی القراءات الثلاث‘‘ ۳۔ محمد بن یعقوب اسدی رحمہ اللہ کا تکملہ ’’الدر النضید‘‘[1] مجھے محسوس ہوتا ہے کہ امام دانی رحمہ اللہ اور پانچویں صدی ہجری میں ان کے معاصر علماء قراءات کی کتب جیسے بغدادی رحمہ اللہ کی ’’روضۃ‘‘ رعینی رحمہ اللہ کی ’’کافی‘‘ مکی رحمہ اللہ کی ’’تبصرۃ‘‘ طبری رحمہ اللہ کی ’’تلخیص‘‘ اور اہوازی رحمہ اللہ کی ’’الموجز‘‘ وغیرہ، قراءات صحیحہ اور قراءات شاذہ کے درمیان تفریق کرنے میں مؤثر ثابت ہوئیں، خصوصاً امام دانی کی [1] کشف الظنون، غایۃ النہایۃ، الاعلام اور معجم المؤلفین میں ان قراء کرام کے تراجم دیکھے جاسکتے ہیں.