کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 48
۵۔ امام محمد بن احمد موصلی المعروف بشلعۃ رحمہ اللہ (ت ۶۵۶ھ) کی ’’کنز المعانی‘‘ ۶۔ امام محمد بن حسن فاسی نحوی رحمہ اللہ (ت ۶۵۶ھ) کی ’’الفریدۃ البارزیۃ‘‘ ۷۔ امام قاسم بن احمد ورقی رحمہ اللہ (ت ۶۶۱ھ) کی ’’المفید‘‘ ۸۔ امام ابو شامہ عبدالرحمن بن اسماعیل دمشقی رحمہ اللہ (ت ۶۶۵ھ) کی ’’إبراز المعانی‘‘ ۹۔ امام محمد بن حسن فاسی رحمہ اللہ (ت ۶۷۲ھ) کی ’’اللآلی الفریدۃ‘‘ ۰۔ امام یعقوب بن بدران جرایدی رحمہ اللہ (ت ۶۸۸ھ) کی ’’کشف الرموز‘‘ ۱۱۔ امام علی بن احمد رحمہ اللہ (ت ۷۰۶ھ) کی شرح ۱۲۔ امام ابن الخطیب رحمہ اللہ (ت ۷۲۵ھ) کی شرح ۱۳۔ امام احمد بن محمد مقدسی رحمہ اللہ (ت ۷۲۸ھ) کی شرح ۱۴۔ امام ابراہیم بن عمر جعبری رحمہ اللہ (ت ۷۳۲ھ) کی ’’کنز المعانی‘‘ اس کے بارے میں امام قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ایک عظیم شرح ہے، اس جیسی کوئی دوسری شرح نہیں لکھی گئی۔[1] ۱۵۔ ہبۃ اللہ بن عبدالرحیم بارزی رحمہ اللہ (ت ۷۳۴ھ) کی شرح ۱۶۔ عبدالرحمن بن احمد دقوقی رحمہ اللہ (ت ۷۳۵ھ) کی ’’الحواشی المفیدۃ فی شرح القصیدۃ‘‘ ۱۷۔ امام ابن ام قاسم مرادی رحمہ اللہ (ت ۷۴۹ھ) کی شرح ۱۸۔ امام احمد بن یوسف السمین الحلبی رحمہ اللہ (ت ۷۵۶ھ) کی ’’العقد النضید‘‘ ۱۹۔ ابن جندی رحمہ اللہ (۷۶۹ھ) کی ’’الجوہر النضید‘‘ ۲۰۔ عبداللہ بن محمد الحسنی رحمہ اللہ (ت ۷۷۶ھ) کی شرح ۲۱۔ عبدالرحمن بن احمد واسطی رحمہ اللہ (ت ۷۸۱ھ) کی شرح ۲۲۔ امام ابن القاصح علی بن عثمان بغدادی رحمہ اللہ (ت ۸۰۱ھ) کی ’’سراج القاری‘‘ [1] لطائف الاشارات: ۱/۸۹.