کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 33
۱۹۔ عبدالرحمن بن واقد الواقدی (ت ۲۰۹ھ)، آپ کی کتب میں سے ’’کتاب الکسائی‘‘[1] اور ’’ کتاب القراءات‘‘[2] معروف ہیں۔ ۲۰۔ ابو عبید قاسم بن سلام رحمہ اللہ (ت ۲۲۴ھ)، علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ ’’النشر‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’امام ابو عبید قاسم بن سلام رحمہ اللہ وہ پہلے معتبر امام ہیں، جنہوں نے قراءات کو کتاب میں جمع فرمایا، آپ نے ان قرائے سبعہ سمیت ۲۵ پچیس قرائے کرام کی قراءات کو جمع فرمایا۔‘‘[3] ۲۱۔ خلف بن ہشام البزار رحمہ اللہ (ت ۲۲۹ھ) ۲۲۔ محمد بن سعدان الضریر الکوفی رحمہ اللہ (ت ۲۳۱ھ) ۲۳۔ عبدالصمد بن عبدالرحمن ابو الازھر مصری رحمہ اللہ (ت ۲۳۱ھ)، آپ کی کتاب کا نام ’’قراء ۃ نافع و حمزہ ‘‘ ہے۔ [4] ۲۴۔ سریج بن یونس المروزی البغدادی رحمہ اللہ (ت ۲۳۵ھ) آپ کی کتاب کا نام ’’ کتاب القراءات ‘‘ ہے۔ ۲۵۔ عبداللہ بن احمد دمشقی المعروف بابن ذکوان رحمہ اللہ (ت ۲۴۲ھ)، امام ابن مجاہد رحمہ اللہ نے ’’السعبۃ ‘‘ میں اکثر مقامات پر ان کی کتاب سے نقل کیا ہے۔ بطور مثال اس کا صفحہ نمبر ۵۶۳ دیکھیں۔ ۲۶۔ امام ابو عمرو الدوری رحمہ اللہ (ت ۲۴۶ھ) [5] ۲۷۔ ہارون بن حاتم کوفی رحمہ اللہ (ت ۲۴۹ھ)، آپ کی بھی کتاب کا نام ’’ کتاب القراءات ‘‘ ہے۔ ۲۸۔ نصر بن علی جہضمی رحمہ اللہ (ت ۲۵۰ھ)، آپ کی بھی کتاب کا نام ’’کتاب القراءات ‘‘ ہے۔ ۲۹۔ احمد بن یزید حلوانی رحمہ اللہ (ت ۲۵۰ھ)، آپ کی کتاب کا نام ’’ قراء ۃ أبی عمرو بن [1] الفہرست: ۳۰. [2] الفہرست: ۳۵. [3] النشر: ۱/۳۴. [4] غایۃ النہایۃ: ۱/۲۳. [5] مقدمۃ کتاب السبعۃ للدکتور شوقی ضیف: ۱۱.