کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 30
(ت ۲۰۳ھ) معروف تھے۔‘‘ [1] مذکورہ اور ان جیسے دیگر قراء کرام کے اس تخصص نے، علم قراءات کی جمع وتدوین اور اس میں تصنیفات لکھنے کے لیے بنیادی مواد فراہم کیا۔ یہ مرحلہ پہلی صدی ہجری کے اواخر اور دوسری صدی ہجری کے أوائل پر محیط ہے۔ گیارہواں مرحلہ: اس مرحلے پر قراءات قرآنیہ کے میدان میں تالیف و تدوین کا آغاز ہوا۔ علم قراءات کے میدان میں لکھی گئی سب سے پہلی کتاب کے مؤلف کے بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ اکثر کے نزدیک سب سے پہلے مؤلف امام ابو عبید القاسم بن سلام رحمہ اللہ (ت ۲۲۴ھ) ہیں، جبکہ علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ نے ‘‘غایۃ النہایۃ‘‘ میں ابو حاتم السجستانی رحمہ اللہ (ت۲۵۵ھ) کو، اور سید حسن الصدر نے ’’تأسیس الشیعۃ لعلوم الإسلام‘‘ میں ابان بن تغلب کوفی رحمہ اللہ (ت ۱۴۱ھ) کو اولین مؤلف قرار دیا ہے۔ میری تحقیق کے مطابق اس میدان میں سب سے پہلی کتاب لکھنے والے مؤلف امام یحیٰ بن یعمر رحمہ اللہ (ت ۹۰ھ) ہیں، اس کے بعد اس موضوع پر مسلسل کتابیں لکھی جانے لگیں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ امام ابن مجاہد رحمہ اللہ کی ’’کتاب السبعۃ‘‘ سے پہلے تک لکھی جانے والی کتب قراءات کے اسماء کو ان کی تاریخ تالیف کے مطابق ایک فہرست میں مرتب کردوں، جو درج ذیل ہے۔ ۱۔ یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ (ت ۹۰ھ) امام ابن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے اپنے گورنر حجاج بن یوسف کو حکم دیا کہ وہ قرآن مجید کی حرکات و نقاط لگوانے کا اہتمام کرے، چنانچہ حجاج نے امام حسن رحمہ اللہ اور امام یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ کو اس کام پر مامور کیا۔ امام یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ نے حرکات ونقاط کا کام مکمل کر لینے کے بعد قراءات قرآنیہ پر ایک کتاب لکھی، جس میں انہوں [1] النشر: ۱/۸۔۹.