کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 29
’’پھر (یعنی جن کا اوپر ذکر گزر چکا ہے ان کے بعد) ایک قوم اپنی دیگر تمام مصروفیات زندگی ترک کرکے قراءات قرآنیہ کی تعلیم اوران کے فروغ میں مگن ہوگئی۔ انہوں نے ضبط قراءات کے میدان میں اتنی زیادہ محنت کی کہ اس فن کے امام بن گئے، اور دور دراز سے سفر کرکے تشنگان علم ان کے پاس آنے لگے، اور اپنی علمی پیاس بجھانے لگے۔ شہر والوں کی جانب سے ان کی قراءات کو تلقی بالقبول حاصل ہوا اور کہیں بھی دو آدمیوں نے ان سے اختلاف نہ کیا اور ان کے اس خصوصی اہتمام کی وجہ سے قراءات کو ان کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔ ۱۔ مدینہ منورہ میں امام ابو جعفر یزید بن قعقاع رحمہ اللہ (ت ۱۳۰ھ) [1] ، پھر شیبہ بن نصاح رحمہ اللہ (ت ۱۳۰ھ) پھر امام نافع بن ابی نعیم رحمہ اللہ (ت ۱۶۹ھ) معروف تھے۔ ۲۔ مکہ مکرمہ میں امام عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ (ت ۱۲۰ھ)، امام حمید بن قیس الأعرج رحمہ اللہ (ت۱۳۰ھ) اور امام محمد بن محیصن (ت۱۲۳ھ) قابل ذکر تھے۔ ۳۔ کوفہ میں یحییٰ بن وثاب رحمہ اللہ (ت ۱۰۳ھ)، عاصم بن ابی النجود رحمہ اللہ (ت ۱۲۹ھ)، سلیمان الأعمش رحمہ اللہ (ت ۱۴۸ھ)، امام حمزہ رحمہ اللہ (ت ۱۵۶ھ) اور امام کسائی رحمہ اللہ (ت ۱۸۹ھ) معروف تھے۔ ۴۔ بصرہ میں امام عبداللہ بن ابو اسحاق (ت ۱۲۹ھ)، امام عیسیٰ بن عمر(ت ۱۴۹ھ)، امام ابو عمرو بن العلاء(ت ۱۵۴ھ)، امام عاصم الجحدری(ت ۱۲۸ھ) اور امام یعقوب (ت ۲۰۵ھ) معروف تھے۔ ۵۔ شام میں عبداللہ بن عامر(ت ۱۱۸ھ)، عطیہ بن قیس الکلابی(ت ۱۲۱ھ)، اسماعیل بن عبداللہ بن مہاجر، یحییٰ بن حارث ذماری(ت۱۴۵ھ) اور شریح بن یزید الحضرمی [1] آپ کی تاریخ وفات میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں جو درج ذیل ہیں: ۱۱۰ھ، ۱۲۷ھ، ۱۲۸ھ، ۱۲۹ھ اور ۱۳۰ھ.