کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 25
اور بعض حروف میں ایسی کتابت کا حکم دیا تھا، جس کی صورت مختلف وجوہ قراءات کا احتمال رکھتی تھی جیسے لفظ ﴿یَخْدَعُوْنَ﴾ (البقرہ: ۹) کو بدون الف لکھا گیا ہے تاکہ ﴿یُخٰدِعُوْنَ﴾ بالالف کا بھی احتمال باقی رہے۔ اور ایسا ہی یاء ات زوائد میں کیا گیا ہے۔[1] اور یہی بات امام مہدوی رحمہ اللہ کے کلام سے بھی معلوم ہوتی ہے، آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور آپ کی رائے سے متفق اسلاف امت نے لکھے گئے مصاحف میں قراءات قرآنیہ کے اختلاف کو باقی رکھا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ اختلافاتِ قراءات من جملہ نازل شدہ قرآن مجید میں سے ہیں۔ آپ نے اس کو باقی رکھا تاکہ ہر قوم اپنی اپنی روایت کے مطابق قراء ت کرسکے۔[2] یہاں سے ہر شہر والوں کی قراء ت ان کے مصحف کے رسم کے تابع ہوگئی۔‘‘[3] سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لکھوائے گئے مصاحف کی تعداد کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ اس سلسلے میں مشہور ترین روایت یہ ہے کہ ان کی تعداد پانچ تھی، جو پہلے گزر چکے ہیں۔ جیسا کہ امام سیوطی رحمہ اللہ نے ’’الوسیلۃ شرح الرائیۃ المسماۃ بالعقیلۃ‘‘ میں امام سخاوی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے۔[4] چونکہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا کتابت مصاحف سے مقصود، مسلمانوں کو قراءات معتبرہ کی تلاوت پر جمع کرنا تھا، جو مختلف یا احتمالی رسم کے ساتھ مصاحف میں لکھ دی گئی تھیں، جیسا کہ پہلے اشارہ گزر چکا ہے، چنانچہ اس موقع پر میں کہہ سکتا ہوں کہ یہاں سے قراءات معتبر، قراءات آحاد، قراءات شاذ کے درمیان تفریق ہوگئی اور قراءات معتبرہ کی شرائط میں مطابقتِ رسم کی شرط داخل ہوگئی۔ [1] ’’یاء ات زوائد‘‘ سے مراد وہ ’’یاء ات‘‘ ہیں جو رسماً محذوف ہوتی ہیں. [2] ہجاء مصاحف الأمصار: ۱۲۱. [3] غیث النفع: ۲۱۸. [4] نثر المرجان: ۱/۷.