کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 23
عباس رضی اللہ عنہ (ت ۶۸ھ)، سیدنا عبداللہ بن السائب رضی اللہ عنہ (حدود ۷۰ ھ)، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (ت ۷۳ھ)، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا (ت ۴۵ھ)، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (ت ۵۸ھ)، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (ت ۶۲ھ)، یہ تمام صحابہ کرام مہاجرین میں سے تھے۔ اور انصار میں سے، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (ت ۲۰ھ)، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ (ت ۳۲ھ)، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ (ت ۳۳ھ)، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ (ت ۴۵ھ)، سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ (سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں فوت ہوئے۔)، سیدنا ابو زید[1]رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (ت ۹۱ھ) [2] قابل ذکر ہیں۔ اور یہ مرحلہ پہلی صدی ہجری سے زیادہ نہیں ہے۔ قراءات قرآنیہ کی وجوہ کے اختلافات کا فروغ زیادہ تر پہلی صدی ہجری کے نصف اول میں ہوا تھا، جیسا کہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ وفات سے معلوم ہوتا ہے۔ آٹھواں مرحلہ: یہ مرحلہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی جانب سے مختلف اسلامی شہروں کی طرف مصاحف روانہ کرنے کے ساتھ ساتھ معلّمین کی تقرری پر مشتمل ہے، تاکہ لوگ ان بھیجے گئے مصاحف کے مطابق قراء ت کرسکیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی جانب سے مصاحف کے ساتھ روانہ کیے گئے معلّمین کے نام درج ذیل ہیں: ۱۔ سیدنا عبداللہ بن السائب مخزومی رضی اللہ عنہ (ت حدود ۷۰ھ) کو مکہ روانہ کیا۔ ۲۔ سیدنا ابو عبدالرحمن السلمی رضی اللہ عنہ (ت ۴۷ھ) کو کوفہ روانہ کیا۔ آپ وہاں عہد عثمانی سے [1] آپ کا نام قیس بن السکن ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ترجیح دی ہے۔ آپ عہد نبوی میں قرآن مجید جمع کرنے والے صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ ۷۰ ہجری کے بعد فوت ہوئے۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: م الشرقیۃ ۱۳۲۵، ۱۹۰۷: ۵/۲۲۵ و ۷/۷۶). [2] النشر: ۱/۶.