کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 19
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی قرآن مجید حفظ کیا تھا جن کے نام مختلف کتب میں ملتے ہیں۔ الشیخ محترم قاری صہیب احمد میر محمدی حفظہ اللہ نے اپنی کتاب ’’جبیرۃالجراحات فی حجیۃ القراءات ‘‘ میں وہ مزید نام بھی ذکر کیے ہیں] امام ذہبی رحمہ اللہ ان صحابہ کرام کے اسماء گرامی ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ((فَھٰؤُ لَآئِ الَّذِیْنَ بَلَغَنَا أَنَّہُمْ حَفِظُوْا الْقُرْآنَ فِی حَیَاۃِ النَّبِیِّ، وَأَخَذَ عَنْہُمْ عَرْضًا، وَعَلَیْہِمْ دَارَتْ أَسَانِیْدُ قِرَآئَ ۃِ الْأَئِمَّۃِ الْعَشْرَۃِ)) [1] ’’یہی وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا ، انہی سے آگے عرضًا اخذ کیا گیا ہے اور ائمہ قراء عشرہ کی اسانید انہی تک پہنچتی ہیں۔‘‘ [1] معرفۃ القراء: ۱/۳۹، اور قراء عشرۃ کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں: ۱۔ مقریٔ شام عبداللہ بن عامر الیحصبی رحمہ اللہ (۸ھ۔ ۱۱۸ھ) کہ جنہوں نے سیدنا مغیرہ بن ابو شہاب مخزومی رحمہ اللہ اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے پڑھا ہے۔ سیدنا مغیرہ نے سیدنا عثمان سے پڑھا ہے، اور سیدنا عثمان اور سیدنا ابو درداء دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے۔ ان کے درج ذیل دو راوی ہیں: ٭ ہشام بن عمار دمشقی (ت ۲۴۵ھ) ٭ عبداللہ بن احمد دمشقی (ت ۲۴۲ھ) جو ابن ذکوان سے معروف ہیں۔۲۔ مقریٔ مکہ عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ (۴۵ھ۔ ۱۲۰ھ) کہ جنہوں نے سیدنا عبداللہ بن السائب رحمہ اللہ ، سیدنا مجاہد بن جبر اور سیدنا درباس مولی ابن عباس سے پڑھا ہے۔ اور سیدنا عبداللہ بن السائب نے سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا عمر بن خطاب سے پڑھا ہے۔ اور سیدنا مجاہد نے سیدنا عبداللہ بن السائب اور سیدنا ابن عباس سے پڑھا ہے۔ اور سیدنا درباس نے سیدنا ابن عباس سے پڑھا ہے۔ اور سیدنا ابن عباس نے سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا زید بن ثابت سے پڑھا ہے۔ اور سیدنا ابی بن کعب، سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا عمر بن خطاب تینوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے۔ آپ کے درج ذیل دو راوی ہیں: ٭ احمد بن محمد بن ابو بزہ مکی (ت ۲۵۰ھ) جو ’’بزی‘‘ سے معروف ہیں۔ ٭ محمد بن عبدالرحمن مکی (ت ۲۹۱ھ) جو ’’ قنبل‘‘ سے معروف ہیں۔ ۳۔ عاصم بن ابی النجود الکوفی (ت ۱۲۹ھ) کہ جنہوں نے سیدنا ابو عبدالرحمن السلمی سے پڑھا ہے۔ اور سیدنا ابو عبدالرحمن السلمی نے سیدنا ابن مسعود، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے پڑھا ہے۔ اور ان سب صحابہ کرامf نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے۔ آپ کے درج ذیل دو راوی ہے۔ ٭ حفص بن سلیمان الدوری (ت ۱۸۰ھ) ٭ ابو بکر شعبہ بن عیاش الحناط (ت ۱۹۳ھ) ۴۔ مقریٔ بصرہ ابو عمرو بن العلاء (۶۸ھ ۔ ۱۵۴ھ) آپ نے متعدد شہروں کے کبار قراء کرام سے پڑھا ہے۔ جیسے مکہ میں سیدنا مجاہد اور سیدنا ابن کثیر رحمہ اللہ سے، مدینہ میں امام ابو جعفر رحمہ اللہ سے، بصرہ میں یحییٰ بن یعمراور حسن بصری رحمہ اللہ سے، اور کوفہ میں امام عاصم رحمہ اللہ سے پڑھا ہے۔ اور ان تمام قراء کرام کی سند نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک صحیح متصل ہے۔ آپ کے درج ذیل دو راوی ہیں: ٭ حفص بن عمرو الدوری (ت ۲۴۶ھ) ٭ صالح بن زیاد السوسی (ت ۲۶۱ھ) ۵۔ حمزہ بن حبیب الزیات الکوفی (۸۰ھ۔ ۱۵۶ھ) کہ آپ نے سیدنا سلیمان الاعشی، سیّدنا جعفر صادق، سیدنا حمران بن اعین، اور سیدنا منہال بن عمرو وغیرہ سے پڑھا ہے۔ اور ان تمام قراء کرام نے بسند صحیح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے۔ آپ کے درج ذیل دو راوی ہیں: ٭ خلاد بن خالد الصیرفی (ت ۲۲۰ھ) ٭ خلف بن ہشام البزار (ت ۲۲۹ھ) ۶۔ مقریٔ مدینہ نافع بن عبدالرحمن بن ابو نعیم (ت ۱۶۹ھ) کہ آپ نے سیّدنا ابو جعفر رحمہ اللہ ، سیدنا عبدالرحمن بن ہرمز اور سیدنا محمد بن مسلم زہری وغیرہ سے پڑھا ہے، اور ان تمام قراء کرام نے بسند صحیح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے۔ آپ کے درج ذیل دو راوی ہیں: ٭ عثمان بن سعید جن کا لقب ورش ہے۔ (ت ۱۹۷ھ) ٭ عیسیٰ بن میناء جن کا لقب قالون ہے۔ (ت ۲۲۰ھ) ۷۔ علی بن حمزہ الکسائی الکوفی (ت ۱۸۷ھ) کہ آپ نے حمزہ، شعبہ اور اسماعیل بن جعفر وغیرہ سے پڑھا ہے اور ان تمام قراء کرام نے بسند صحیح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے۔ آپ کے درج ذیل دو راوی ہیں: ٭ حفص بن عمر الدوری (ت ۲۴۶ھ) ٭ لیث بن خالد البغدادی (ت ۲۴۰ھ) یہ قراء سبعہ، أصحاب قراء ات سبعہ ہیں۔ باقی قراء ثلاثہ کا تذکرہ درج ذیل ہے۔ ۸۔ ابو جعفر یزید بن قعقاع مدنی (ت ۱۳۰ھ) کہ آپ نے سیدنا ابن عباس، سیدنا ابو ہریرۃ اور سیدنا عبداللہ ابن عیاش رضی اللہ عنہم سے پڑھا ہے۔ ان تینوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پڑھا ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے۔ آپ کے درج ذیل دو راوی ہیں: ٭ عیسی الحذاء جو ابن وردان سے معروف ہیں۔ (المتوفی حدود سنۃ ۱۶۰ھ) ٭ سلیمان بن مسلم الزہری جو ابن جماز سے معروف ہیں۔ (ت بعد سنۃ ۱۷۰ھ) ۹۔ یعقوب بن اسحاق الحضرمی (ت ۲۰۵ھ) کہ آپ نے سلام بن ابو سلیمان الطویل اور مہدی ابن میمون وغیرہ سے پڑھا ہے، اور انہوں نے بسند صحیح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے۔ آپ کے درج ذیل دو راوی ہیں: ٭ رَوح عبدالمومن (ت ۲۳۵ھ) ٭ محمد بن متوکل اللؤلؤی جو ’’رویس‘‘ سے معروف ہیں۔ (ت ۲۳۷ھ) ۱۰۔ خلف بن ہشام البزار (ت ۲۲۹ھ) آپ نے امام یعقوب الأعشی اور سعید بن أویس وغیرہ سے پڑھا ہے۔ اور انہوں نے بسند صحیح نبی کریم سے پڑھا ہے۔ آپ کے درج ذیل دو راوی ہیں: ٭ ادریس بن عبدالکریم الحداد (ت ۳۹۲ھ) ٭ اسحاق بن ابراہیم المروزی جو الوراق سے معروف ہیں۔ (ت ۲۸۶ھ).