کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 120
چنانچہ اہل علم نے قراءات شاذہ کو قراءات متواترہ کے باب سے خارج کرنے کی غرض سے یہ شرط مقرر کر دی، اور یہی مقصد مطابقت رسم کی شرط مقرر کرنے کا تھا۔ اس سے ان کا یہ ہرگز مقصد نہیں تھا کہ وہ قراءات قرآنیہ کو قواعد نحویہ کے تابع کر دیں… جیسا کہ میں نے محسوس کیا ہے… ورنہ وہ ﴿الْاَرْحَامِ﴾ (النساء: ۱) مجرور کی قراء ت حمزہ اور ﴿قَتْلُ اَوْلَادَہِمْ شُرَکَآئِہِمْ﴾ (الأنعام: ۱۳۷) مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان فاصلے والی قراء ت ابن عامر شامی رحمہ اللہ کے انکار پر نحویوں سے مناقشہ اور ان کا رد نہ کرتے۔ یہ شرط اپنی سابقہ شرط کی مانند ایک دفاعی لائن تھی… جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں… اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قراءات قرآنیہ قواعد نحویہ کے مصادر میں سے ایک مصدر اور ان کی صحت کو پرکھنے کا ایک اعلیٰ ترین معیار ہیں۔ مذکورہ کلام کی روشنی میں ہم محسوس کرتے ہیں کہ بعض نحویوں کی جانب سے اس میدان میں جو اعتراضات وارد ہوئے ہیں، ان کا اس شرط سے قریب یا بعید کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ اس بنیاد پر بعض قراءات کو لغو کر دیا جائے جیسا کہ بعض کا دعویٰ ہے۔[1] میرے خیال میں اعراب القرآن پر مبنی کتب لکھنے کا بھی یہی مقصد ہے کہ قراءات متواترہ عربیت کے موافق ہیں۔ پیچھے ہم قراءات کے معیارات کے ارتقائی مراحل میں بیان کر چکے ہیں کہ امام ابن خالویہ رحمہ اللہ سے لے کر علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ تک تمام قراء نے اس شرط (موافقت عربیت) کو قراءات متواترہ کے ارکان میں مختلف رد وبدل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ نے تو اس میں وسعت پیدا کرتے ہوئے تمام عربی وجوہ تک پھیلا دیا ہے، اور علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ سے لے کر آج تک اسی پر عمل چلا آرہا ہے۔ [1] أسالیب الاسفتہام فی القرآن: ۳۲۹.