کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 119
جس کی نگرانی شیخ أزہر اور ملک فؤاد اوّل کی طرف سے قائم کردہ کمیٹی فرما رہی تھی۔ اس پر شیخ محمد علی نجار استاد کلیۃ اللغۃ العربیۃ، شیخ عبدالحلیم بسیونی مدیر مکتب شیخ الجامع الأزہر، اور شیخ علی محمد الضباع شیخ المقاریٔ المصریۃ نے کام کیا۔ اس کمیٹی نے سابقہ کمیٹی کے کام پر دئیے گئے ملاحظات کا بھی خیال رکھا، اور تشنہ امور کی تکمیل فرما دی۔ اس مصحف کو عالم اسلام کی جانب سے تلقی بالقبول حاصل ہوا، جس کے ہر سال کئی ملین نسخے طبع ہوتے ہیں۔ قریب ہے کہ اہل علم کے اجماع سے مشرق و مغرب میں صرف یہی نسخہ متداول ہو جائے، کیونکہ اس کی رسم اور کتابت میں مکمل دقت نظر سے کام لیا گیا ہے۔ [1] اس کے بعد مصحف کو کیسٹوں اور سی ڈیز پر معروف قراء کرام جیسے شیخ محمود خلیل مصری [2] وغیرہ کی آوازوں میں ترتیل کی صورت میں ریکارڈ کیا گیا،تاکہ قراءات قرآنیہ کی صوتی حفاظت ہو سکے۔ ان تمام خدمات کی ابتداء سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جمع سے ہوئی، اور انتہاء مصحف مرتل کی ریکارڈنگ پر ہوئی۔ اور اس سارے کام کا مقصد قراءات متواترہ کی حفاظت ہے، تاکہ غیر متواترہ اس میں داخل نہ ہوسکیں۔ ۳۔ موافقت عربیت: قراءات متواترہ کی شرائط میں سے تیسری بنیادی شرط عربیت کی موافقت ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ قراءات فصیح عربی نطق سے مستنبط نحوی قواعد و آراء کے موافق ہوں۔ یہ شرط مقرر کرنے کا سبب بھی وہی ہے، جو مطابقت رسم کی شرط مقرر کرنے کا سبب ہے کیونکہ اہل علم نے دیکھا کہ قراءات متواترہ عربیت کے مخالف نہیں ہوتیں۔ ہر قراء ت متواترہ کسی نہ کسی نحوی مذہب یا رائے کے موافق ہوتی ہے، جبکہ قراءات شاذہ میں سے بعض قراءات ایسی بھی ہیں، جو نحوی قواعد کے مخالف ہیں۔ [1] مباحث فی علوم القرآن: ۱۰۰، السبیل إلی ضبط کلمات التنزیل: ۵۸. [2] تفصیلات کے لیے ’’المصحف المرتل‘‘ نامی کتاب کا مطالعہ کریں.