کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 114
’’سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا مقصد، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مانند قرآن مجید کو فقط دوگتوں میں جمع کرنا نہیں تھا۔ بلکہ آپ کا مقصود قرآن مجید کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت معروف قراءات پر جمع کرنا، دیگر غیر ثابت شدہ قراءات کو لغو قرار دینا اور مہاجرین و انصار کے اتفاق سے ایک مصحف تیار کرنا تھا، کیونکہ بعض حروف میں اہل عراق و اہل شام کے اختلاف سے آپ کو فتنے کا اندیشہ لاحق ہوگیا تھا۔‘‘ [1] اس سے اہل علم نے مخالفِ مصحف متواتر حروف کی قراء ت کو جائز قرار دیا ہے، اور رسم کے مخالف ان متواتر حروف کو تلقی بالقبول سے سرفراز کیا ہے۔ اہل علم نے رسم مصحف کے مخالف حروف کو شمار کرتے ہوئے مستقل کتب تصنیف فرمائی ہیں، جنہیں ’’ علم اختلاف مرسوم المصاحف‘‘ یا ’’ علم رسم القرآن‘‘ یا ’’علم ہجاء المصاحف‘‘ وغیرہ کے نام دئیے ہیں۔ اہل علم نے رسم کے مخالف حروف کی معرفت کے لیے اس علم (علم الرسم) کو حاصل کرنا واجب قرار دیا ہے، تاکہ قراءات متواترہ میں مطابقتِ مصحف کی شرط پوری ہوسکے۔ اور قراءات غیر متواترہ سے حفاظت ہو سکے۔ یہاں ہم غیث النفع کی کلام دوبارہ پیش کر دیتے ہیں، تاکہ مسئلہ مزید واضح ہو جائے: ’’شیخ عارف باللہ سیدی محمد بن الحاج ’’المدخل‘‘ میں فرماتے ہیں: کہ کسی شخص کے لیے اس وقت تک مصحف سے قراء ت کرنا جائز نہیں ہے، جب تک وہ قراءات قرآنیہ اور رسم مصحف کے موافق و مخالف قراءات کا علم حاصل نہ [1] الانتصار، المواہب الفتحیۃ: ۲/۸۶.