کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 110
چھٹی فصل: قراء ت کا معیار جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جاچکا ہے کہ قراء کرام نے قراءات متواترہ کے لیے متعدد معیارات وضع کیے، تاکہ قراءات متواترہ کو قراءات شاذہ سے ممتاز کرسکیں، اور علم قراءات کے تقاضوں کے مطابق یہ معیارات مختلف ارتقائی مراحل سے گزرے۔ ہماری معلومات کے مطابق سب سے قدیم معیار امام ابن مجاہد رحمہ اللہ کا ہے، پھر اس کے بعد امام ابن خالویہ رحمہ اللہ کا ہے، پھر امام مکی بن ابی طالب رحمہ اللہ کا ہے، پھر امام کواشی رحمہ اللہ کا ہے اور سب سے آخر میں علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ کا معیار ہے، جس پر آج تک عمل ہو رہا ہے۔ ان معیارات کی تفصیل درج ذیل ہے۔ ۱۔ امام ابن مجاہد رحمہ اللہ (ت ۳۲۴ھ) کا معیار: (ا) اس قاری کی قراء ت پر، اس کے شہر والوں کا اجماع ہو۔ (ب) اس قاری کی قراء ت پر، اس کے شہر والوں کا اجماع، حقیقتاً قراء ت اور لغت کے علم پر قائم ہو۔ ۲۔ امام ابن خالویہ رحمہ اللہ (ت ۳۷۰ھ) کا معیار: (ا) وہ قراء ت رسم کے مطابق ہو۔ (ب) عربیت کے موافق ہو۔ (ج) اور اس کی نقل مسلسل ہو۔