کتاب: قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ - صفحہ 108
امام قرطبی رحمہ اللہ کے کلام سے یہ صورت مزید واضح ہو جاتی ہے، وہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ((وَہٰذِہِ الْقِرَآئَ اتُ الْمَشْہُوْرَۃُ ہِیَ اخْتِیَارَاتُ أُوْلٓئِکَ الْأَئِمَّۃِ الْقُرَّآئِ، وَذٰلِکَ أَنَّ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمُ اخْتَارَ مِمَّا رُوِیَ وَعُلِمَ وَجْھُہُ مِنَ الْقِرَآئَ اتِ مَا ہُوَ الْأَحْسَنُ عِنْدَہُ وَالْأَوْلٰی، فَالْتَزَمَ طَرِیْقَہُ وَرَوَاہُ وَأَقْرَأَ بِہٖ وَاشْتَھَرَ عَنْہُ وَعُرِفَ بِہٖ، وَنُسِبَ اِلَیْہِ، فَقِیْلَ حَرْفُ نَافِعٍ، وَحَرْفُ ابْنِ کَثِیْرٍ)) [1] ’’یہ مشہور قراءات، ان ائمہ قراء کرام کے اختیارات ہیں، جو انہوں نے مرویات اور معلوم وجوہ قراءات میں سے اپنے نزدیک احسن اور اولی وجوہ کو منتخب کرتے ہوئے اختیار فرمائے ہیں۔ پھر انہوں نے اس طریقے (اختیار) کا التزام کیا، اسی کو روایت کیا، اسی کو پڑھایا، اور اس کے ساتھ مشہور و معروف ہوگئے، وہ طریقہ (اختیار) ان کی طرف منسوب کیا جانے لگا، اور کہا جانے لگا کہ یہ امام نافع رحمہ اللہ کا حرف ہے، یہ امام مکی رحمہ اللہ کا حرف ہے۔‘‘ قراءات میں اختیار کے معنی سے واضح ہوتا ہے کہ قراء کرام کا اجتہاد وضع قراءات میں نہیں تھا… جیسا کہ بعض کو وہم ہوا ہے… بلکہ اختیار و روایت میں تھا، اور وضع قراءات میں اجتہاد، اور اختیار روایت میں اجتہاد کے درمیان بڑا واضح فرق پایا جاتا ہے۔ اور بالاجماع تمام مسلمانوں کے نزدیک، اختیار روایت میں اجتہاد کی بجائے، وضع قراءات میں اجتہاد کرنا حرام ہے۔ علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ((اِضَافَۃُ اخْتِیَارٍ وَدَوَامٍ وَلُزُوْمٍ، لَا اِضَافَۃُ اخْتِرَاعٍ وَرَأْیٍ وَاجْتِہَادٍ)) [2] ’’یہ اختیار، دوام اور لزوم کی نسبت سے ہے، اختراع، رائے اور اجتہاد کی نسبت [1] تفسیر القرطبی: ۱۵/۴۰. [2] النشر: ۱/۵۲.