کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 99
ب: امام طبرانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ أَ لَا أُعَلِّمُکَ دُعَائً تَدْعُوْ بِہِ، لَوْ کَانَ عَلَیْکَ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ دَیْنًا لَأَدَّاہُ اللّٰہُ عَنْکَ؟ ‘‘ ’’ کیا میں تمہیں ایک ایسی دعا نہ سکھلاؤں، کہ اگر تم پر اُحد پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو، اور تم اس دعا کے ساتھ فریاد کرو، تو اللہ تعالیٰ اس کو تم سے ادا کروادیں؟ ‘‘ ’’ قُلْ یَا مُعَاذُ! ’’ أَللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ!تُؤْتِيْ الْمُلْکَ مَنْ تَشَائُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَائُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَائُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَائُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ إِنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَرَحِیْمَھُمَا!تُعْطِیْھِمَا مَنْ تَشَائُ، وَتَمْنَعُ مِنْھُمَا مَنْ تَشَائُ، اِرْحَمْنِيْ رَحْمَۃً تُغْنِیْنِيْ بِھَا عَنْ رَحْمَۃِ مَنْ سِوَاکَ۔ ‘‘[1] ’’اے اللہ!بادشاہی کے مالک!آپ جس کو چاہیں بادشاہت عطا فرماتے ہیں اور جس سے چاہیں چھین لیتے ہیں۔ آپ جس کو چاہیں عزت سے نوازتے ہیں اور جس کو چاہیں ذلیل کرتے ہیں۔ تمام خیر آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ آپ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں۔[اے]دنیا و آخرت کے نہایت مہربان انتہائی رحم فرمانے والے!آپ جس کو چاہیں وہ دونوں عطا فرماتے ہیں اور جس سے چاہیں ان دونوں میں سے روک لیتے ہیں۔ مجھ پر ایسی رحمت فرمائیے، کہ [1] منقول از الترغیب والترہیب، کتاب البیوع وغیرھا، الترغیب في کلمات یقولہن المدیون والمکروب والمأسور، رقم الحدیث ۳، ۲؍ ۶۱۴۔ حافظ منذری لکھتے ہیں: ’’ اس کو طبرانی نے [المعجم] الصغیر میں [عمدہ اسناد] کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ‘‘(المرجع السابق ۲؍ ۶۱۴)۔ حافظ ہیثمی نے اس کے روایت کرنے والے راویوں کو [ثقہ] قرار دیا ہے، اور شیخ البانی نے اس حدیث کو [حسن] کہا ہے۔(ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد ۱۰؍ ۱۸۹ ؛ وصحیح الترغیب والترہیب ۲؍ ۳۶۰)۔