کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 97
(۳) ادائیگی قرض کے لیے قبل از وقت تیاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی توجہ اس طرف بھی مبذول فرمائی، کہ قرض کی بروقت ادائیگی کی خاطر تیاری پہلے ہی سے کی جانی چاہیے۔ امام بخاری نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے - جبل اُحد - دیکھا، تو فرمایا: ’’ مَا أُحِبُّ أَنَّہُ تَحَوَّلَ لِيْ ذَھَبًا یَمْکُثُ عِنْدِيْ مِنْہُ دِیْنَارٌ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا دِیْنَارًا أُرْصِدُہ لِدَیْنٍ۔ ‘‘[1] ’’ میں یہ پسند نہ کروں گا، کہ وہ میرے لیے سونے کا ہوجائے اور اس میں سے میرے پاس تین دن سے زیادہ ایک دینار بھی باقی رہے، سوائے اس دینار کے، جو میں قرض[کی ادائیگی]کے لیے تیار رکھوں۔ ‘‘ علامہ عینی نے حدیث کی شرح میں لکھا ہے: ’’ وَمِمَّا یُسْتَفَادُ مِنَ الْحَدِیْثِ الْاِھْتِمَامُ بِأَمْرِ الدَّیْنِ وَتَہِیْئَتِہِ لِأَدَائِہِ۔ ‘‘[2] ’’ اس[حدیث]میں قرض اور اس کی ادائیگی کے لیے تیاری کے اہتمام کا پتہ چلتا ہے۔ ‘‘ (۴) قرض کی ادائیگی کروانے والی دعاؤں کی تعلیم قرض کی واپسی کے لیے اسلامی شریعت کا شدید اہتمام اس بات سے بھی واضح [1] صحیح البخاري، کتاب الاستقراض، باب أداء الدیون، جزء من رقم الحدیث ۲۳۸۸، ۵؍ ۵۴۔ ۵۵، نیز ملاحظہ ہو: المرجع السابق، رقم الحدیث ۲۳۸۹ عن أبي ھریرہ رضی اللہ عنہ، ۵؍ ۵۵۔ [2] عمدۃ القاري ۱۲؍ ۲۲۹؛ نیز ملاحظہ ہو: فتح الباري ۵؍ ۵۵۔