کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 83
میں نے آواز دی:’’ میری طرف نکل آؤ، مجھے علم ہوچکا ہے، کہ تم کہاں ہو۔ ‘‘ وہ باہر نکل آیا، تو میں نے کہا: ’’ مَا حَمَلَکَ أَنْ اخْتَبَأْتَ مِنِّيْ؟ ‘‘ ’’ تمہارے مجھ سے چھپنے کا سبب کیا ہے؟ ‘‘ اس نے جواب دیا: ’’ أَنَا وَاللّٰہِ!أُحَدِّثُکَ ثُمَّ لَا أَکْذِبُکَ، خَشِیْتُ وَاللّٰہِ!أَنْ أُحَدِّثَکَ فَأَکْذِبَکَ، وَإِنْ أَعِدُکَ فَأُخْلِفُکَ، وَکُنْتَ صَاحِبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم، وَکُنْتُ وَاللّٰہِ!مُعْسِراً۔‘‘ ’’ میں، واللہ!آپ سے بات کروں گا، تو جھوٹ نہیں بولوں گا۔ واللہ!مجھے خدشہ تھا، کہ میں آپ سے بات کروں گا، تو آپ سے جھوٹ بولوں گا، اور اگر آپ سے وعدہ کروں گا، تو اس کی خلاف ورزی کروں گا، اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ اور واللہ!میں نادار ہوں۔ ‘‘ انہوں نے بیان کیا:’’ میں نے کہا:’’ آ للّٰہِ؟ ‘‘ ’’ کیا واللہ؟ ‘‘[یعنی کیا تم قسم کھا کر کہہ سکتے ہو، کہ تم نادار ہو؟] اس نے جواب دیا:’’ اَللّٰہِ ‘‘ ’’ اللہ تعالیٰ کی قسم!‘‘[یعنی واللہ!میری حالت ویسی ہی ہے، جیسی میں بیان کر رہا ہوں۔] میں نے کہا:’’ آ للّٰہِ؟ ‘‘ ’’ کیا واللہ؟ ‘‘[ایسے ہی ہے، جس طرح تم بیان کر رہے ہو؟] اس نے کہا:’’ اَللّٰہِ ‘‘