کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 72
’’تم سے پہلے[لوگوں میں سے]ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرمادیا۔ وہ بیچتے وقت سہولت دیتا تھا، خریدتے وقت سہولت دیتا تھا اور تقاضا کرتے وقت آسانی کرتا تھا۔ ‘‘ شیخ مبارکپوری(سَھْلًا إِذَا اقْتَضَی)کی شرح میں لکھتے ہیں:’’ یعنی جب وہ کسی مقروض پر اپنا واجب الذمہ قرضہ طلب کرتا، تو شفقت اور نرمی سے کرتا، سختی اور درشتی سے پیش نہ آتا۔ ‘‘ [1] حدیث کی شرح میں علامہ مناوی لکھتے ہیں:’’ اس میں ہمارے لیے ترغیب ہے، کہ ہم بھی ایسے ہی کریں، شاید کہ اللہ تعالیٰ ہماری مغفرت فرمادیں۔ ‘‘ [2] ۵:مطالبہ میں آسانی رحمت الٰہیہ کے حصول کا ایک سبب: امام بخاری نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَی، وَإِذَا اقْتَضٰی۔ ‘‘[3] ’’ اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائیں جو بیچنے، خریدنے اور مطالبہ کرتے وقت سہولت دے۔ ‘‘ حافظ ابن حجر نے حدیث کی شرح کرتے ہوئے تحریر کیا ہے: ’’(رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلًا)یَحْتَمِلُ الدُّعَائَ وَیَحْتَمِلُ الْخَبَرَ۔ ‘‘[4] [1] تحفۃ الأحوذي ۴؍ ۴۵۷۔ [2] منقول از: المرجع السابق ۴؍ ۳۵۷۔ [3] صحیح البخاري، کتاب البیوع، رقم الحدیث ۲۰۷۶، ۴؍ ۳۰۶۔ [4] فتح الباري ۴؍ ۳۰۷۔