کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 69
(۲) مقروض کے ساتھ حسن معاملہ کی تلقین اسلام میں صرف قرض دینے کی ترغیب پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ مقروض کے ساتھ حسن معاملہ کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔ توفیق الٰہی سے اس حوالے سے درج ذیل تین عنوانوں کے ضمن میں قدرے تفصیل پیش کی جارہی ہے: ا: مطالبہ میں احتیاط اور نرمی ب: تنگ دست کو مہلت ج: قرض کی کلی یا جزوی معافی ا۔ مطالبہ میں احتیاط اور نرمی: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حق کا مطالبہ کرتے وقت احتیاط کرنے کی تلقین کی ہے۔ علاوہ ازیں ادائیگی میں سہولت دینے کے عظیم اجر و ثواب کو بیان فرمایا ہے۔ذیل میں اس سلسلے میں قدرے تفصیل ملاحظہ فرمائیے: ۱:مطالبہ میں ناجائز طریقہ سے بچنے کا حکم: ا: حضراتِ ائمہ ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْیَطْلُبْ فِيْ عَفَافٍ وَافٍ، أَوْ غَیْرَ وَافٍ۔ ‘‘[1] [1] سنن ابن ماجہ، أبواب الأحکام، حسن المطالبۃ وأخذ الحق في عفاف، رقم الحدیث ۲۴۴۶، ۲؍ ۵۸۔ ۵۹ ؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الدعوی، رقم الحدیث ۵۰۸۰، ۱۱؍ ۴۷۴ ؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب البیوع، ۲؍ ۳۲۔ الفاظِ حدیث المستدرک کے ہیں۔ امام حاکم نے اس کو [بخاری کی شرط پر صحیح] قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے ان سے موافقت کی ہے۔ شیخ البانی نے اس کو [صحیح] کہا ہے۔(ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲؍ ۳۲ ؛ والتلخیص ۲؍ ۳۲ ؛ وصحیح الترغیب والترہیب ۲؍ ۳۲۹ ؛ وصحیح سنن ابن ماجہ ۲؍ ۵۴)۔