کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 65
’’میں نے آپ سے یہی تو فرمائش کی تھی، لیکن آپ نے انکار کر دیا۔‘‘[اور اب خود ہی دے رہے ہیں؟] تاجر نے کہا:’’بلاشبہ آپ نے ہمیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث سنائی ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ’’مَنْ أَقْرَضَ اللّٰہَ مَرَّتَیْنِ، کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِ أَحَدِھَمَا، لَوْ تَصَدَّقَ بِہِ۔‘‘ ’’جس شخص نے دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کو [1]قرض دیا، تو اس کے لیے اس چیز کے ایک مرتبہ خیرات کرنے کے برابر ثواب ہو گا۔‘‘ [2] اللہ اکبر!اس تاجر کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر یقین کس قدر پختہ تھا!اے رب کریم!ہم ناکاروں کو بھی ایسا یقین نصیب فرما دیجیے۔ آمین یا حي یاقیوم۔ ۲۔ امام طبرانی اور امام بیہقی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، کہ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کُلُّ قَرْضٍ صَدَقَۃٌ۔‘‘ [3] ’’ہر قرض صدقہ ہے۔‘‘ [1] یعنی رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر۔ [2] الإحسان في صحیح ابن حبان، کتاب البیوع، باب الدیون، ذکر کتبۃ اللہ جل وعلا للمقرض مرتین الصدقۃ بإحداھما، رقم الحدیث ۵۰۴۰، ۱۱؍۴۱۸۔ شیخ شعیب ارناؤوط نے اس کو [حسن] قرار دیا ہے۔(ھامش الإحسان ۱۱؍۴۱۸)۔ [3] منقول از: الترغیب والترھیب، کتاب الصدقات، الترغیب في القرض، وما جاء فی فضلہ، رقم الحدیث ۲، ۲؍۴۰۔ حافظ منذری اس کے متعلق لکھتے ہیں: ’’ اس کو طبرانی نے [اسناد حسن] کے ساتھ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔‘‘(المرجع السابق ۲؍۴۰)۔ شیخ البانی نے اس کو [حسن لغیرہ] کہا ہے۔(ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب والترھیب ۱؍۵۳۷)۔