کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 33
مبحث اوّل قرض اور اس کی شرعی حیثیت قرض کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے قرض کے مفہوم، اس کی شرعی حیثیت اور دائرہ کو جاننا ضروری ہے۔ توفیقِ الٰہی سے اس مقام پر انہی تین نکات کے بارے میں گفتگو کی جارہی ہے۔ (۱) قرض کا مفہوم لغوی معنی: [القرض]عربی زبان کا لفظ ہے، جو کہ[قَرَضَ یَقْرِضُ][ضَرَبَ یَضْرِبُ]کے وزن پر ہے اور اس کا معنی کاٹنا[اَلْقَطعُ]ہے۔ [1] کسی جگہ سے گزر کر جانے کو بھی[قرض]کہتے ہیں جیساکہ اس کو[قطع]کہتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ [2] ’’اور جب[سورج]غروب ہوتا ہے، تو ان سے بائیں طرف کو کترا کر جاتا ہے۔‘‘ [3] [1] ملاحظہ ہو: لسان العرب المحیط، مادۃ ’’ قرض ‘‘، ۳؍ ۵۹؛ والمفردات في غریب القرآن، مادۃ ’’ قرض ‘‘، ص ۴۰۰۔ [2] سورۃ الکہف؍ جزء من الآیۃ ۱۷۔ [3] ملاحظہ ہو: المفردات في غریب القرآن، مادۃ ’’ قرض ‘‘، ص ۴۰۰۔