کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 245
۵:بطور قرض اپنے دیے ہوئے مالوں کی زکوٰۃ خود ادا کریں۔ ب: امت کے عام لوگوں سے، کہ وہ: ۱:قرض لینے سے حتی الامکان احتراز کریں۔ ۲:شدید جائز ضرورت کی صورت میں قرض لینے پر ادائیگی قرض کے لیے تاحد ِ استطاعت کو شش کریں اور اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتلائی ہوئی دعاؤں کے ذریعہ رب کریم سے خوب التجائیں کریں۔ ج: ضامن حضرات اور قرض ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے والے لوگوں سے، کہ: ضامن عدم ادائیگی کی صورت میں اپنی ذمہ داری پوری کریں اور قرض ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے والے قرض ادا کریں۔ د: اسلامی معاشرہ کے لوگوں سے، کہ وہ: قرض کی ادائیگی سے عاجز اور نادار مقروضوں کے لیے دست تعاون بڑھائیں۔ زکوٰۃ و صدقات سے ان کی مدد کریں۔ ہ: مقروض کے اقارب سے، کہ وہ: قرض کی ادائیگی کئے بغیر فوت ہونے والے قرابت دار شخص کی طرف سے قرض ادا کریں، تاکہ اس کے لیے آخرت میں آسانی ہو۔ و: اسلامی حکومت سے، کہ وہ ا: مال دار مقروضوں سے قرض واپس کروانے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے: ۱۔ ان کی باز پرس کرے ۲۔ انھیں قید کرے ۳۔ ان کے سفر پر پابندی عائد کرے ۴۔ انہیں اپنے مال کے استعمال سے روک دے